رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کے محکمہٴصحت کے حکام نے جمعرات کو ایسے مزید 14 کیسز کی اطلاع دی ہے جس کے بعد 20 مئی کو سامنے آنے والے اس وائرس کے شکار مریضوں کی دنیا بھر کی تعداد بڑھ کر 122 تک پہنچ گئی ہے

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی سانس کی بیماری ’ایم ای آر ایس‘ کے باعث، اس کے ہاں دسویں موت واقع ہوگئی ہے اور تشویش یہ ہے کہ صورتحال کے اثرات معشیت پر بھی پڑیں گے۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی، ’یوناپ‘ کے مطابق، وزارت صحت و سماجی خدمات کا کہنا ہے کہ حالیہ موت 75 سالہ ایک ایسے شخص کی ہوئی جو زبان کے کنسر میں مبتلا تھا اور علاج کے دوران اس وائرس کا شکار ہوا۔

محکمہٴصحت کے حکام نے جمعرات کو ایسے مزید 14 کیسز کی اطلاع دی ہے جس کے بعد 20 مئی کو سامنے آنے والے اس وائرس کے شکار مریضوں کی تعداد اب تک 122 تک پہنچ گئی ہے۔

پھیلتے ہوئے مرض کی وجہ سے کاروبار میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ جنوبی کوریا کو پریشانی ہے کہ وہ وائرس کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات کرے، کیونکہ لوگ دکانوں، تھیٹر اور دیگر علاقوں میں جمع نہیں ہو رہے۔

کوریا کے مرکزی بنک نے جمعرات کو شرح سود میں غیر معمولی طور پر ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔ بقول گورنر بینک آف کوریا لی جو یول، ’بینک آف کوریا کی مانٹری پالیسی کمیٹی نے آج 25 بنیادی نکات کی بنیاد پر شرح سود میں کمی کی ہے، کیونکہ برآمدات میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں سانس کی بیماری پھوٹ پڑی ہے‘۔

حکام کے مطابق، مرض کی شناخت کے بعد وائرس کے شکار مریضوں کو اسپتالوں تک محدود کر دیا گیا، تاکہ وائرس عام لوگوں تک نہ پھیل سکے؛ جبکہ ہزاروں مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، ہزاروں اسکولوں کو بند کردیا گیا اور وبا کے باعث صدر پارک جین ہائی اگلے ہفتے امریکہ کا دورہ منسوخ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

خوف کی علامت یہ وائرس ہانک کانگ، سمیت ایشیاء کے دیگر ممالک تک پھل چکا ہے، جس نے رواں ہفتے ہی اس حوالے سے ریڈ الرٹ جاری کردیا تھا، اور اپنے شہریوں کو جنوبی کوریا کا غیر ضروری دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG