رسائی کے لنکس

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

  • واشنگٹن

اگر آپ کو نیند نہیں آتی تو آپ کو یہ جان کر ضرور ڈھارس ہوگی کہ اس مشکل میں آپ اکیلے ہی گرفتار نہیں

اگر آپ کو نیند نہیں آتی تو آپ کو یہ جان کر ضرور ڈھارس ہوگی کہ اس مشکل میں آپ اکیلے ہی گرفتار نہیں۔ ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بے خوابی کا شکار ہے اور اس عارضے کا شکار افراد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

برطانیہ کے علاقے کوونیٹری میں واقع 'یونی ورسٹی آف واروک میڈیکل اسکول' کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کے بے خوابی کا مرض اب صرف ترقی یافتہ ملکوں کا مسئلہ ہی نہیں رہا بلکہ یہ مرض ترقی پذیر ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یونی ورسٹی سے منسلک ڈاکٹر سویریو اسٹرینجس اس تحقیق کے نتائج پر مشتمل رپورٹ کے مصنف ہیں۔ ان کے بقول ان کی اس تحقیق کا مقصد ایشیا اور افریقہ کے آٹھ ممالک میں بے خوابی کا شکار افراد سے متعلق اعدادو شمار اکٹھے کرکے ان کا جائزہ لینا تھا۔

یہ تحقیق گھانا، تنزانیہ، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام، انڈونیشیا اور کینیا کے شہری علاقوں میں کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اسٹرینجس کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام آٹھ ممالک کی آبادی میں نیند کی کمی سے متعلق مسائل کی شرح زیادہ ہے۔

تحقیق کے نتائج سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں نیند سے متعلق مسائل کا شکار افراد کی تعداد 15 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

ڈاکٹر اسٹرینجس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حیاتیاتی شواہد موجود ہیں کہ بے خوابی، بھوک کی کمی اور دماغی کمزوری کی وجہ بننے سمیت کئی جسمانی افعال کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کے بقول نیند کی کمی انسانی جسم کی قوتِ مدافعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کے کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہونے کا امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر اسٹرینجس کے بقول بہت زیادہ سونا بھی انسانی صحت کے لیے ٹھیک نہیں اور کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ترقی پذید ممالک میں نیند سے متعلق مسائل کا شکار افراد کی تعداد 15 کروڑ کے لگ بھگ ہے


تحقیق سے منسلک ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی اور غیر متوازن خوراک سمیت دیگرغیر صحت مندانہ عادات بے خوابی کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی ملکوں میں 24 گھنٹےزندگی کی روانی بھی نیند سے متعلق مسائل کو جنم دے رہی ہے جب کہ انٹرنیٹ کا بے تحاشااستعمال بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ طویل ذہنی دباؤ، گھبراہٹ اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی ترقی پذیر ممالک کے عوام میں بے خوابی کی وجہ بن رہے ہیں اور مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد نیند کی کمی کا شکار ہے۔

تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور ویتنام کے لوگوں میں نیند سے متعلق مسائل کا شکار افراد کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر اسٹرینجس کے بقول ان ممالک میں نیند سے متعلق امراض صحتِ عامہ کا ایک اہم مسئلہ بنتے جارہے ہیں۔

اس کے برعکس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت اور انڈونیشیا میں بے خوابی کی شکایت کرنے والے افراد کی تعداد حیرت انگیز طور پر نسبتاً کم ہے۔

ڈاکٹر اسٹرینجس خبردار کرتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں بے خوابی کی بڑھتی ہوئی شکایت ان ممالک میں کئی اور امراض کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیند سے متعلق مسائل کا کوئی آسان حل موجود نہیں اور معالجین کو چاہیے کہ بے خوابی کے مریضوں کو علاج تجویز کرتے وقت ان کے طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں اور ان کے صحت پر اثرات کو بھی مدِ نظر رکھیں۔ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ معاشروں میں صحتِ عامہ کی عمومی صورتِ حال کا جائزہ لیتے وقت ان میں بے خوابی کی شکایت کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔
XS
SM
MD
LG