رسائی کے لنکس

برطانوی محققین نے لمبی نیند کو فالج کےساتھ منسلک کیا ہےجن کا کہنا ہے کہ8 گھنٹے سے زیادہ کی نیند سےفالج کےامکانات میں اضافہ ہوتا ہے جس سے دماغ کو سنگین نقصان پہنچتا ہے۔

عام طور پر اپنی نیند کے بارے میں ہمیں فکر کرنے کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے کیونکہ یہ زندگی کےمعمول کا ایک حصہ ہوتی ہے۔

تاہم طبی ماہرین بالغان کو رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند کا مشورہ دیتے ہیں اور نیند کی کمی کو صحت کے مسائل کے ساتھ منسلک کرتے ہیں لیکن، نئی تحقیق میں ماہرین نے نیند کی زیادتی کو جسمانی اور دماغی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ بتایا ہے ۔

برطانوی محققین نے لمبی نیند کو فالج کے ساتھ منسلک کیا ہے اور بتایا ہے کہ 8 گھنٹے سے زیادہ سونے سےفالج کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہےجس سے دماغ کو سنگین نقصان پہنچتا ہے۔

برطانیہ کی معروف درسگاہیں 'یونیورسٹی آف کیمبرج' اور 'واروک یونیورسٹی' کے محققین نے نیند کے دورانیہ اور اسٹروک کےخطرے کے درمیان تعلق تلاش کر لیا ہے ۔

جن کا کہنا ہے کہ لمبی نیند کے پیٹرن اور فالج کےخطرے میں اضافہ کے درمیان واضح تعلق ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے اس وقت تک یہ واضح نہیں ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ رات میں 8 گھنٹے سے زیادہ سوتے تھے ان میں 10 برس کے عرصے کے دوران 46 فی صد فالج کے خطرے میں اضافہ ہوا ایسے لوگوں کے مقابلے میں جو رات میں 6 سے 8 گھنٹے سوتے تھے ۔

یہ مطالعہ 'میڈیکل جرنل نیورولوجی' میں شائع ہوا ہے جس میں محققین نے 42 سے 81 برس کے درمیانی عمر کے تقریبا 10,000 بالغان کے معمول کے سونے کے طریقوں کا تجزیہ کیا ہے اورنیند کی مقدار اور اگلے دس برسوں کے دوران فالج کا شکار ہونے والے شرکاء کی تعدادکے درمیان تعلق تلاش کیا ہے۔

دس سالہ مطالعے کے دوران 346 شرکاء نے فالج کا سامنا کیا علاوہ ازیں ،محققین نے نیند کے پچھلے مطالعوں کےنتائج کو بھی اپنے تجزیہ میں شامل کیا، نتائج سے ظاہر ہوا کہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ سونے سے فالج کےخطرے میں 45 فی صد اضافہ ہوا ۔

مطالعے کے شرکاء میں سے ہر 10 میں سے 7 نے بتایا کہ وہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند لیتے ہیں اسی طرح ہر 10میں سے 1 نے بتایا کہ وہ آٹھ گھنٹے سے زائد نیند پوری کرتے ہیں۔

چھ گھنٹے سے کم سونے کی عادت رکھنے والوں کی تعداد کم رہی جن میں زیادہ تر بڑی عمر کے افراد اور خواتین شامل تھیں۔

​تحقیق کاروں نے فالج کے دیگر عوامل مثلاً جنس، عمر، بلند فشار خون، قلبی مسائل کو نتائج کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کے بعد بتایا کہ جو لوگ آٹھ گھنٹے سے زائد سوتے تھے ان میں فالج کا امکان بہت زیادہ تھا اور مجموعی طور پر دونوں جنس کے لیے فالج کا خطرہ 46 فی صد زیادہ تھا ۔

نتیجہ سے یہ محققین نے یہ بھی اخذ کیا کہ جو لوگ رات میں 6 گھنٹے سے کم سوتے تھے ان کے لیے فالج کا خطرہ میں 18 فی صد اضافہ ہوا ۔

نتائج کو جنس کی بنیاد پر الگ الگ تجزیہ کرنے سے پتہ چلا کہ لمبی نیند اور فالج کے خطرے کے اعداد و شمار عورتوں کے لیے زیادہ اہم تھے عورتوں میں آٹھ گھنٹے سے زائد نیند سے فالج کے خطرے میں 80فی صد اضافہ ہوا یعنی ان میں فالج کا خطرہ مجموعی خطرے سے نسبتا دوگنا ہو گیا تھا۔

جبکہ دوسری طرف مردوں کے لیے خطرے کے اعداد و شمار بہت کم تھے جس کا فالج کے ساتھ تعلق نظر نہیں آیا ۔

کیمبرج یونیورسٹی کے محقق یو لینگ نے کہا کہ بین الاقوامی اعداد و شمار اور ہمارے شرکاء دونوں سے ظاہر ہوا ہے کہ اوسط نیند کے مقابلے میں لمبی نیند سے اسٹروک کے خطرے کا تعلق ہےجو چیز اس تحقیق میں واضح نہیں ہے وہ یہ کہ کیا لمبی نیند قلبی مسائل کی ابتدائی علامات میں سے ایک سبب ہو سکتی ہے؟

تحقیق کے مصنف اور کیمبرج یونیورسٹی پبلک ہیلتھ سے وابستہ پروفیسر کے ٹی کھا نے کہا کہ ذہنی تناؤ اور فالج کے خطرے کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں لمبی نیند پوری کرنے والوں میں زیادہ اور مختصر نیند کے ساتھ فالج کا خطرے میں معمولی اضافہ ہوتا ہے ہمارے جسم میں ایسا کیا ہوتا ہے جو اس تعلق کی وجہ بنتا ہے اور اس بنیادی نظام کی تفتیش کے لیے مزید مطالعوں کی ضرورت ہے ۔

XS
SM
MD
LG