رسائی کے لنکس

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہم انسان کیوں سوتے ہیں؟ اس دوران ہمارے جسم میں کیا کچھ ہوتا ہے؟ نیند نہ آنے کی صورت میں انسانی جسم میں کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔ ان سب سوالوں کا جواب نیند کے متعلق بنیادی باتیں جانے بغیر نہیں ہوسکتا۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق میں اس مسئلے کا حل ڈھونڈا جا رہا ہے۔


Seal جسے اردو میں دریائی بچھڑا کہا جاتا ہے، ایک ایسا جانور ہے جو اس کیفیت میں سوتا ہے کہ اس کا آدھا دماغ سویا ہوتا ہے اور باقی کا آدھا دماغ خطرے کو بھانپنے کے لیے مستعد رہتا ہے۔

کینیڈا، روس اور امریکہ کے سائنسدانوں پر مبنی ٹیم نے اس آبی مخلوق کے دماغ کے ان کیمیائی مادوں کا پتہ لگایا ہے جس کی وجہ سے یہ دریائی بچھڑے اس طرح سو پاتے ہیں۔

اس تحقیق سے منسلک جیروم سیگل کہتے ہیں کہ ان دریائی بچھڑوں کے دماغ میں ایک خاص کیمیل کی شرح دماغ کے سوئے ہوئے حصے میں کم جبکہ دماغ کے جاگتے ہوئے حصے میں زیادہ تھی۔ ان کے الفاظ، ’’ہمیں معلوم ہوا کہ دماغ میں ایک خاص کیمیائی مادے acetylcholine کا نیند کے ساتھ ایک خاص ربط ہے۔‘‘

اس تحقیق میں ایک اور دریافت یہ ہوئی کہ دماغ میں پایا جانے والا ایک اور کیمیکل serotonin کی شرح دریائی بچھڑوں کے دماغ کے دونوں طرف ایک جیسی تھی۔

جیروم سیگل کہتے ہیں، ’’یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہم انسان کیوں سوتے ہیں؟ اس دوران ہمارے جسم میں کیا کچھ ہوتا ہے؟ نیند نہ آنے کی صورت میں انسانی جسم میں کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔ ان سب سوالوں کا جواب نیند کے متعلق بنیادی باتیں جانے بغیر نہیں ہوسکتا۔‘‘

گو کہ دریائی بچھڑوں پر کی جانے والی اس تحقیق کا براہ ِ راست انسانوں کی صحت کے ساتھ کوئی تعلق یا ربط نہیں لیکن جیروم سیگل اور ان کے ساتھیوں کا ماننا ہے کہ اس تحقیق سے اس بات پر روشنی ڈالنا ممکن ہو سکے گا کہ دماغ کے کونسے کیمیائی مادے انسان کو سونے یا جاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG