رسائی کے لنکس

پاکستان میں کچھووں کے اسمگلرز سرگرم


کراچی: کسٹم حکام کی جانب سے اسمگلنگ ناکام بناکر ان کچھووں کو دوبارہ جھیل میں چھوڑدیاگیا

کراچی: کسٹم حکام کی جانب سے اسمگلنگ ناکام بناکر ان کچھووں کو دوبارہ جھیل میں چھوڑدیاگیا

بیرون ملک ان کچھووں کی مانگ میں اضافے پر 2013 اور 2014 کے درمیان پنجاب اور گلگت میں بھی کچھووں کی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں سے گزشتہ برسوں میں کچھووں کی بیرونِ ملک اسمگلنگ کے کئی کیس سامنے آچکے ہیں۔ یہ کچھوے پاکستان سے چین، نیپال، ہانگ کانگ اور دیگر ایشیائی ممالک میں اسمگل کئے جاتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کچھووں کی غیر قانونی تجارت کا اہم چینل بن چکا ہے۔

حال ہی میں کراچی ایئرپورٹ کے کسٹم افسران نے فریش واٹر کے کالے دھبے والے 220 کچھووں کی غیر قانونی اسمگلنگ ناکام بنائی اور یہ کچھوے 'سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ' کے حوالے کردیے۔

اسمگلنگ کے ملزمان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے جبکہ ان کچھووں کو دوبارہ دریا میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

پاکستان سے اسمگل کئے جانے والے ان کچھوں کی بین الاقوامی منڈی میں قیمت لگ بھگ 150 سے 350 ڈالر فی کچھوا ہے۔

ا'نٹرنیشنل یونین فارکنزرویشن آف نیچر' (آئی یو سی این) کے ترجمان غلام قادر شاہ نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو مین بتایا کہ "قیمتی آبی حیات سمجھے جانے والے فریش واٹر کچھووں کے غیر قانونی شکار میں اندرون ملک بہت بڑی مافیا سرگرم ہے۔ ان کے بقول پاکستان سے باہر دیگر ممالک میں بھی بڑا غیر قانونی نیٹ ورک موجود ہے جو انھیں یہ کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

'آئی یو سی این' کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان میں آبی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کےخلاف قوانین موجود تو ہیں ہے مگر ان پر عمل درآمد یقینی بنائے جانے تک صورتِ حال بہتر نہیں ہوگی۔

غلام قادر شاہ کے بقول حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق جانوروں کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان ہر 50 لاکھ روپے تک جرمانے عائد کئے جاسکتے ہیں جبکہ چین میں اس جرم کی سزا قید ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر عظمی نورین نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس کی باقاعدہ سماعت عدالت میں ہوئی ہے۔

عدالت کو یہ باور کرایا گیا کہ آبی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی معاملہ بن چکا ہے جس کے لئے سخت ایکشن لینے کی ضرورت تھی۔

فریش واٹر کچھوے اکثر پاکستان سے چین، ہانگ کانگ اور دیگر ممالک اسمگل کئے جاتے ہیں۔ بیرون ملک ان کچھووں کی مانگ میں اضافے پر 2013 اور 2014 کے درمیان پنجاب اور گلگت سے بھی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

فریش واٹر کچھوے کیوں نایاب؟

کالے دھبے والے یہ کچھوے میٹھے پانی کی جھیلوں اور تالابوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان سے ان کو اسمگل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ان کچھووں کی نسل اور افزائش دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔ یہ کچھوے سمندر کے پانی کو صاف رکھنے اور آبی آلودگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ کچھوے مردار مچھلیاں اور آبی حیات کھاتے ہیں جب کہ بیرون ملک ان کچھووں کو خوراک اور ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کچھوے انسان دوست ہیں اور انھیں بعض شوقین پالتو جانور کے طور پر بھی رکھتے ہیں۔

پاکستان کے ساحلوں میں جہاں دن بدن سمندری آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے ایسے میں کالے دھبے والے یہ کچھوے ملک کے ساحلوں کیلئے اہم تصور کئے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG