رسائی کے لنکس

فٹ بال ورلڈ کپ، مورتیاں اور افریقی قوئین

  • جیف سویکارڈ

فٹ بال آرٹ

فٹ بال آرٹ

ان دنوں جنوبی افریقہ میں فٹ بال کے عالمی کپ کی وجہ سے بہت گہماگہمی ہے اوردنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں شائقین وہاں آئے ہوئے ہیں۔ بر اعظم افریقہ میں بھی اس کھیل کے بارے میں بڑی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال ووووزیلا ہے۔ جنوبی افریقہ میں ان دنوں زندگی کے ہر شعبے کا محور فٹ بال بن چکاہے۔ جوہانسبرگ میں آرٹ کی ایک ڈیلر ، جسے افریقن قوئین کےنام سے جاناجاتا ہے، فٹ بال سے گہری دلچسی رکھتی ہیں اور انہوں نے اپنی دلچسپی کوآرٹ کے ایک منفرد نمونے کی شکل دی ہے۔

آئیوری کوسٹ میں پیدا اور پروان چڑھنے والی اس خاتون کا کاروبار نیو یارک سے لے کر ہانگ گانگ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ آرٹ کے نادر نمونے اکٹھے کرنے کے لیے پورے افریقی براعظم میں سفر کرتی ہیں ۔

افریقن قوئین کا کہنا ہے کہ فٹ بال سے ان کی دلچسپی کی وجہ ان کا آبائی وطن آئیوری کوسٹ ہے، جہاں یہ کھیل بہت شوق سے کھیلاجاتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ فٹ بال وہاں لوگوں کی زندگی میں شامل ہے۔

چھ ماہ قبل ، جب ورلڈ کپ قریب آرہا تھا، ان کے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا ۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وہ لکڑی کی ایسی مورتیاں بنائیں جو فٹ بال کے کھلاڑیوں کی شکل کی ہوں اور ان پر ورلڈ کپ کی 32 ٹیموں کے رنگوں کیےجائیں ۔

افریقن قوئین کا کہنا ہے کہ میں نے ورلڈ کپ سے چار ماہ قبل لکڑی کی یہ مورتیاں اپنے گاہکوں کو دکھائیں اور انہیں بہت پسند آئیں۔ اس کے بعد میں نے بڑی تعداد میں ان کی تیاری شروع کردی۔

انہوں نے آئیوری کوسٹ میں قائم اپنی فیکڑی سے لکڑی کی ایک لاکھ مورتیاں بنوائیں، اور اب ان کے پاس صرف تین ہزار باقی بچی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ افریقی ٹیموں کے لیے یہ ورلڈ کپ بہت مشکل رہا ۔ صرف گھانا دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکا۔ قوئین کہتی ہیں کہ اب وہ کوئی اور فٹ بال میچ نہیں دیکھیں گی۔ وہ کسی اور افریقی ٹیم کو ہارتے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتیں۔

پھر انہوں نے کہا کہ یہ تو کھیل ہے اور کھیل میں ہارجیت تو ہوتی ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG