رسائی کے لنکس

روس، جنوبی کوریا مذاکرات، تجارتی راستے کی تجویز پر غور


یہ ایک مشکل سیاسی معاملہ ہے، جس میں روسی صدر کی صدر پارک گیون ہوئے سے ہونے والی بات چیت میں کسی پیش رفت کی امید نہیں۔ یہ منصوبہ روس کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، جسے کچھ لوگ ’آئرن سلک روڈ‘ کا نام دیتے ہیں

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور اُن کے جنوبی کوریائی ہم منصب کے درمیان بدھ کو ملاقات ہوئی جس میں دونوں کوریائی ممالک کو تجارت مقاصد کے لیے یورپ سے ملانے کی تجویز زیرِ غور آئی۔

یہ ایک مشکل سیاسی معاملہ ہے، جس میں روسی صدر کی صدر پارک گیون ہوئے سے ہونے والی بات چیت میں کسی پیش رفت کی امید نہیں۔ یہ منصوبہ روس کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، جسے کچھ لوگ ’آئرن سلک روڈ‘ کا نام دیتے ہیں۔

تجویز کے تحت، شمالی اور جنوبی کوریا کی ریل کے نیٹ ورک کو ’ ٹرانس سائبیریا ریلوے‘ سے جوڑا جائے گا، جو ’ریل روڈ‘ کا دنیا کا سب سے بڑا راستہ خیال کیا جاتا ہے، جو روس کے مشرق کو مغرب سے ملاتا ہے۔

اِس کے ذریعے، راجین کے شمالی کوریا کی بندرگاہ کے شہر کو ترقی دے کر، جزیرہ نما کوریا کی برآمدات کا مرکز بنانا ہے۔

تاہم، اِس تجویز کو کئی ایک چیلنج درپیش ہیں، جِن میں شمال جنوب کے کشیدہ تعلقات اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی پاداش میں پیانگ یانگ پر عائد متعدد معاشی تعزیرات کا معاملہ شامل ہے۔

اس طرح کے حالات کے باعث، کوریائی ممالک کے مابین کاروباری منصوبوں پر عمل درآمد ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس میں کائی سانگ کی صنعتی تنصیب بھی شامل ہے، جسے فروری میں کیے گئے جوہری تجربے پر ہونے والی بین الاقوامی مذمت کے بعد، پانچ ماہ قبل شمالی کوریا نے بند کردیا تھا۔

اب تک جنوبی کوریا نے اِن مذاکرات میں شرکت کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

دلچسپی لینے کی صورت میں، جنوبی کوریا شمالی کوریا میں سرمایہ کاری پر لگائی گئی پابندی کو اٹھاتا، جسے 2010ء میں اس وقت لگایا گیا تھا، جب شمالی کوریا نے جنوب کے ایک بحری جنگی جہاز کو ڈبو دیا تھا۔

باوجود یہ کہ اس منصوبے میں کئی مشکلات حائل ہیں، روس نے اُس منصوبے کو آگے بڑھایا ہے، جسے وہ پہلا حصہ خیال کرتا ہے۔

ستمبر میں روس نے ریلوے لائن کے 54 کلومیٹر کے حصے کا افتتاح کیا، جو ھسان کے جنوب مشرق کو شمالی کوریا کی بندرگاہ، راجین سے ملاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG