رسائی کے لنکس

سال کا پہلا مکمل سورج گرہن، یورپ میں اندھیرا چھا گیا


بوسنیا میں نظر آنے والے سورج گرہن کی ایک تصویر

بوسنیا میں نظر آنے والے سورج گرہن کی ایک تصویر

مکمل سورج گرہن قطبِ شمالی اور اس سے متصل علاقوں میں نظر آیا جہاں یہ نظارہ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں سیاح پہنچے تھے۔

یورپ، افریقہ اور ایشیا میں کروڑوں افراد نے جمعے کو سالِ رواں کے پہلے سورج گرہن کا نظارہ کیا جو حالیہ برسوں کے دوران سورج کو لگنے والا سب سے واضح گرہن تھا۔

مکمل سورج گرہن قطبِ شمالی اور اس سے متصل علاقوں میں نظر آیا جہاں یہ نظارہ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں سیاح پہنچے تھے۔ اس علاقے میں 60 برسوں کے بعد یہ پہلا مکمل اور واضح سورج گرہن تھا۔

سورج گرہن کے باعث یورپ اور روس میں دن کے اوقات میں جھٹ پٹے کا سا سماں رہا جب کہ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے کئی ملکوں میں بھی جزوی سورج گرہن ہوا۔

برطانیہ میں سنہ 1999 کے بعد یہ پہلا واضح جزوی سورج گرہن تھا جس کے دوران 80 فی صد سے زائد سورج چاند کے پیچھے چھپا رہا۔

طویل عرصے بعد ہونےو الے اس گرہن کو دیکھنے کے لیے برطانوی شہری خاصے پرجوش تھے جب کہ نشریاتی اداروں نے بھی گرہن کو براہِ راست نشر کیا۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اگلا سورج گرہن اگست 2026ء میں ہوگا۔

مکمل سورج گرہن کے نظارے کےلیے لگ بھگ آٹھ ہزار سیاح قطبِ شمالی کے نزدیک ڈنمارک کے زیرِ انتظام جزائر فرو کے تورشان پہنچے جہاں دو منٹ سے کچھ زائد وقت تک مکمل گرہن ہوا۔

دن کے اوقات میں سورج کے اچانک چھپ جانے کے باعث یورپ کے کئی ملکوں میں شمسی توانائی کے بحران کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا تھا لیکن بیشتر ملکوں میں حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کوئی غیر معمولی کمی نہیں آئی۔

XS
SM
MD
LG