رسائی کے لنکس

اس مشین کے ذریعے، ہر خاندان کو سمارٹ کارڈ کے ذریعے روزانہ 30 لیٹر پانی نکالنے کی اجازت ہوگی، جب کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پانی ضائع بھی نہیں ہوگا

جی ہاں۔۔ بالکل درست پڑھا آپ نے۔ اب ’اے ٹی ایم‘ سے پیسے ہی نہیں، پانی بھی برسے گا۔۔ اور یہ اے ٹی ایم بجلی سے نہیں شمسی توانائی سے چلے گا اور اس سے پانی نکالنے کے لئے ضرورت ہوگی صرف ایک۔۔ سمارٹ کارڈ کی۔

مزید تفصیلات سے پہلے ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس اے ٹی ایم کو ایجاد کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

دراصل پینے کا صاف پانی پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی کوشش میں صوبہ پنجاب کے تین بڑے شہروں فیصل آباد، بہاولپور اور راجن پور میں فلٹر پلانٹ کیساتھ یہ اے ٹی ایم مشینیں بھی نصب کی جائیں گی۔

روزنامہ ’ایکسپریس‘ اور ’ٹری بیون‘ کے مطابق، پنجاب حکومت کی جانب سے یہ پراجیکٹ صوبائی حکومت کے قائم کردہ ادارے ’پنجاب صاف پانی‘ اور لاہور کے ایک تحقیقی مرکز ’انوویشنز فار پوورٹی ایلیویشن لیب‘ (آئی پی اے ایل)کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے۔

اسکیم کے پروگرام منیجر، جواد عباسی کے مطابق ’اس مشین کے ذریعے ہر خاندان کو سمارٹ کارڈ کے ذریعے روزانہ 30 لیٹر پانی نکالنے کی اجازت ہوگی، جب کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پانی ضائع بھی نہیں ہوگا۔‘

جواد عباسی کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کے لیے برطانوی ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ سے بھی مدد حاصل کی جا رہی ہے، جب کہ پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں 20 فلٹریشن پلانٹ لگائے جائیں گے، جس سے 17 ہزار 5 سو خاندان فائدہ اٹھائیں گے۔

XS
SM
MD
LG