رسائی کے لنکس

جہاز کے پروں میں 17,000 شمسی سیلز نصب ہیں جب توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی ہوں گی جن کے ذریعے شمسی توانائی کو استعمال میں لا کر یہ جہاز پوری رات پرواز کر سکتا ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ہوائی جہاز دنیا کے گرد چکر لگانے کے اپنے مشن کے دوران منگل کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں تقریباً چھ گھنٹوں تک موجود رہے گا۔

اس جہاز نے پیر کو اپنے مشن کا آغاز ابوظہبی سے کیا تھا اور منگل کی صبح سات بجے مسقط سے دوبارہ پرواز شروع کرنے کے بعد یہ پاکستانی حدود میں دن گیارہ بج کر 40 منٹ پر داخل ہوا۔

طیارہ بعد ازاں بھارتی شہر احمد آباد میں اترے گا۔

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والا یہ جہاز مکمل طور پر شمسی توانائی کے ذریعے ہی پرواز کرتا ہے اور اس کے تخلیق کاروں کو توقع ہے کہ یہ دنیا کے گرد چکر لگانے والا پہلا سفر ہوگا جس میں کسی اور طرح کا ایندھن استعمال نہیں ہوگا۔

کاربن فائبر سے بنے اس جہاز میں ایک ہی نشست ہے اور طیارے کا وزن ایک کار کے وزن کے برابر ہے۔

جہاز کے پروں میں 17,000 شمسی سیلز نصب ہیں جب توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی ہوں گی جن کے ذریعے شمسی توانائی کو استعمال میں لا کر یہ جہاز پوری رات پرواز کر سکتا ہے۔

اس طیارے کے لیے بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کے لیے رات کے وقت پرواز انتہائی اہم ہو گی، کیونکہ شمسی توانائی سے چلنے والے اس جہاز کی اوسط رفتار 72 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

XS
SM
MD
LG