رسائی کے لنکس

صومالی ڈاکوؤں کے یرغمال برطانوی جوڑے کی اپیل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وِڈیو میں پال چینڈلر نے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُسے اور اُس کی بیوی کو 98 دن تک قیدِ تنہائى میں رکھا گیا اوراس دوران انہیں ورزش کرنے کا بھی کوئى موقع نہیں دیا گیا

اُن دو برطانوی شہریوں نے جنہیں صومالیہ کے سمندری ڈاکوؤں نے پکڑا ہوا ہے، فوری طور پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی صحت گرتی جارہی ہے۔

پال اور ریچل شینڈلر کی حالت کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات، برطانوی ٹیلی ویژن سکائى نیوز کے حاصل کردہ ایک وِڈیو اور فرانس کی خبر راساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ سے ملی ہیں۔

وِڈیو میں پال شینڈلر نے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُسے اور اُس کی بیوی کو 98 دن تک قیدِ تنہائى میں رکھا گیا اوراس دوران انہیں ورزش کرنے کا بھی کو ئى موقع نہیں دیا گیا۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دو نوں میاں بیوی کو وسطی صومالیہ میں الگ الگ مقامات پر قید رکھا جارہا ہے۔ ایجنسی نے رَیچل شینڈلر کے حوالے سے کہا ہے کہ اُنہیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ "اب ہمارے پاس جینے کے لیے کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے"۔

اُن بحری قزاقوں نے، جو اُنہیں یرغمال بنائے ہوئے ہیں، اُن کی رہائى کے لیے 70 لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ یرغمال بنانے والوں کو تاوان ادا نہیں کرتا۔

XS
SM
MD
LG