رسائی کے لنکس

یوسف علی عثمان، ریڈیو موغادیشو کے ایک سابق ڈائریکٹر اور صومالیہ کی وزارتِ اطلاعات کے لیے کام کیا کرتے تھے۔ وہ اِس سال صومالیہ میں ہلاک ہونے والے آٹھویں صحافی ہیں

مسلح افراد نےصومالیہ کے ایک مشہور صحافی کو ہلاک کر دیا ہے، اور اِس طرح یہ دنیا میں پیشہ ور صحافیوں کے لیےخطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔

نامعلوم حملہ آوروں نے یوسف علی عثمان کو، جو ’فارے‘ کے نام سےجانے جاتے تھے، اتوار کے روز موغادیشو کے دھرکینلی ضلع میں گولیاں مار کر ہلاک کیا۔
عثمان ریڈیو موغادیشو کے ایک سابق ڈائریکٹر تھے، اور صومالیہ کی وزارتِ اطلاعات کے لیے کام کیا کرتے تھے۔ کینیا میں قائم صومالیہ کے جلاوطن صحافیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عثمان اس سال صومالیہ میں ہلاک ہونے والے آٹھویں صحافی ہیں۔

ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ ہر ماہ ایک صحافی کی جدائی ، ایک تکلیف دہ اور دل خراش امر ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہٴ خصوصی برائے صومالیہ، آگسٹین ماہیگا نے عثمان کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے صومالی حکام سے صحافیوں پر حملوں کی تفتیش کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اِن ہلاکتوں کے سلسلے میں ابھی تک کسی فردِ واحد کو انصاف کے کٹہرے تک نہیں لایا گیا۔

اکتیس جولائی کو صومالیہ کے ایک معروف کامیڈین اور میڈیا ورکر کو ، جنھیں ’ مارشیل‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، ہلاک کیا گیا۔ اُنھوں نے ایک نشریے میں شدت پسند گروپ الشباب کا مذاق اڑایا تھا۔

سنہ 1991میں آخری مستحکم حکومت کا تختہ الٹنے سے کے بعد، صومالیہ دو عشروں سے جنگ و جدل اور ہنگامہ آرائی کا شکاررہا ہے۔

ایک خصوصی اسمبلی نے حال ہی میں ایک نیا آئین منظور کیا ہے۔ اس ماہ کے اواخر تک ملک میں ایک نیا پارلیمان تشکیل پاجائے گا اور صدر اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔
XS
SM
MD
LG