رسائی کے لنکس

یہ حملہ جس بس پر کیا گیا اس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" کے کارکنان سوار تھے جو اپنے گیسٹ ہاؤسز سے دفتر جا رہے تھے۔

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے کارکنان کی بس پر ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف اقوام متحدہ پر حملہ تھا بلکہ یہ ملک کے مستقبل پر بھی وار تھا۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس حملے سے الشباب کے اس تصور کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ صومالیہ کے مستقبل میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ ان کے بقول وہ صرف "اپنے انتہا پسند ایجنڈے" کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

صدر حسن کا کہنا تھا کہ ایسے میں جب صومالیہ کی فوج اور اس کے بین الاقوامی اتحادی ملک میں صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، الشباب "موت کی تکلیف دینے پر تلا ہوا ہے۔"

پیر کو شدت پسند گروپ الشباب نے شمالی صومالیہ میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ حملہ جس بس پر کیا گیا اس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" کے کارکنان سوار تھے جو اپنے گیسٹ ہاؤسز سے دفتر جا رہے تھے۔

حکام کے مطابق مرنے والوں میں چار غیر ملکی شہری بھی شامل تھے جن کا تعلق کینیا، یوگنڈا اور افغانستان سے تھا۔

یہ الشباب کی طرف سے تین دنوں کے دوران بین الاقوامی کارکنوں پر تیسرا حملہ تھا۔

اتوار کو اس گروپ نے افریقی یونین کے امن مشن میں شامل برونڈی کے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ ہفتہ کو کینیا کے ایک قافلے پر حملے میں تین فوجی مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG