رسائی کے لنکس

’’صومالیہ کی آبادی کا 70 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمر 30 برس سے کم ہے۔ اس لیے، حکومت تمام افراد کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی۔ لیکن، ہم امن بحال کرنے میں مصروف ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کو (ملک میں) کام میسر آئے گا‘‘

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ یورپ پہنچے کی امنگ لے کر بیشمار صومالی نوجوان کمزور کشتیوں کےسہارے سمندر پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا سبب، بقول اُن کے، روزگار کےمواقع کی عدم دستیابی ہے۔

مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے بدھ کے روز بتایا کہ اب تک بحیرہ روم میں 500 سے زائد مہاجرین ڈوب چکے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں ایک کشتی جس میں گنجائش سے زائد مسافر سوار تھے، بیچ منجدھار ڈوب گئی۔ بچ جانے والے چند افراد نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ 200 سے زیادہ صومالی ہلاک ہوئے۔
’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے، صدر محمود نے کہا کہ ’’مہاجرین کے (یورپ) جانے کے ہم بھی کافی حد تک ذمے در ہیں، ہم جو کہ صومالیہ کے رہنما ہیں‘‘۔

محمود کے بقول، ’’یہ نوجوان اپنے ملک سے نفرت نہیں کرتے؛ والدین بچوں کے اثاثے نہیں خرید رہے کہ اُن کے بچے ملک چھوڑ کر سمندر کی نذر ہوجائیں۔ لیکن، معاشی مشکلات اس کا باعث بنتی ہیں، جس وجہ سے وہ اس خوفناک سفر پر آماندہ ہوتے ہیں‘‘۔

یہ معلوم کرنے پر کہ اُن کی حکومت نوجوانوں کے لیے ملک میں روزگار کے زیادہ مواقع کیوں نہیں پیدا کرتی، صدر نے کہا کہ ’’صومالیہ کی آبادی کا 70 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمر 30 برس سے کم ہے۔ اس لیے حکومت تمام افراد کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی۔ لیکن، ہم امن بحال کرنے میں مصروف ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کو (ملک میں) کام میسر آئے گا‘‘۔

الشباب کے بارے میں، محمود نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ کامیابی کی داستان ہے اور افریقی یونین کی افواج کی حامی حکومت کامیاب ہورہی ہے۔

صومالی حکومت اور افریقی یونین، جسے ’اے ایم آئی ایس او ایم‘ کہا جاتا ہے، ایک عشرے سے الشباب کے ساتھ لڑ رہی ہے اور یہ شدت پسند گروپ دارالحکومت میں اور ملک کے اندرونی علاقوں میں جہاں افریقی یونین کے اڈے ہیں، خونریز حملے کرتا رہا ہے۔

ساٹھ سالہ صدر نے یہ بھی کہا کہ جب اس سال کے اواخر میں صومالیہ میں نئے انتخابات ہوں گے، وہ دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پہلی بار اُنھیں سنہ 2012 میں منتخب کیا گیا تھا۔


XS
SM
MD
LG