رسائی کے لنکس

موغادیشو: فوج اور الشباب میں جھڑپ، کم از کم 45 ہلاک


فائل

فائل

صومالی دارالحکومت کے جنوب میں ہونی والی اس لڑائی میں، درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے جب بھاری اسلحے سے لیس شدت پسندوں نے علی الصبح سرکاری فوج پر اچانک حملہ کیا۔ یہ علاقہ زیریں شابیلی خطے میں، ضلعٴادغل میں واقع مبارک نامی گاؤں میں واقع ہے

جنوبی صومالیہ میں الشباب کے شدت پسندوں اور سرکاری افواج کے درمیان ہفتے کو ہونے والی لڑائی میں کم از کم 45 ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت موغادیشو کے جنوب میں ہونی والی اس لڑائی میں، درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے جب بھاری اسلحے سے لیس شدت پسندوں نے علی الصبح سرکاری فوج پر اچانک حملہ کیا۔ یہ علاقہ زیریں شابیلی خطے میں، ضلعٴادغل میں واقع مبارک نامی گاؤں میں واقع ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس سے گفتگو میں، ادغل کے ضلعی کمشنر، محمد اویس ابوبکر نے کہا ہے کہ لڑائی میں 19 سرکاری فوجی اور الشباب کے 26 جنگجو ہلاک ہوئے۔

یہ لڑائی چھڑنے سے ایک ہفتہ قبل، الشباب نے حملہ کرکے کچھ وقت کے لیے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

سنہ 2006سے الشباب صومالی حکومت کا تختہ الٹنے اور ایک سخت گیر شرعی نظام قائم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، ہفتے ہی کو موغادیشو میں مسلح افراد نے ایک قانون داں اور اُن کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کردیا ،جب وہ پارلیمان کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔

سرکاری اہل کاروں نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے طبی عملے کا بھیس اپنایا ہوا تھا اور ایک ایمبولینس میں سفر کر رہے تھے، جب اُنھوں نے یوسف دریر پر گولیاں چلائیں۔ ایک اور قانون ساز، عبداللہ بوس حملے میں زخمی ہوئے۔

صومالیہ کے معاون وزیر اعظم، محمد عمر عرطے نے بتایا ہے کہ تفتیش جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG