رسائی کے لنکس

دوسرے بم دھاکے میں زخمی ہونے والوں میں سات صحافی بھی شامل ہیں جو حملے کے بعد وہاں کوریج کے لیے موجود تھے۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل کے باہر کار بم دھماکے اور مسلح عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم28 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

ایمبولنس سروس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقادر عبدالرحمن نے بتایا ہے کہ ہوٹل سے اکھٹی کی جانے والی نعشوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔

عہدیداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ حملہ موغادیشو میں ’دایا‘ ہوٹل پر کیا گیا، جو صومالیہ کی پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں سے کچھ فاصلے پر ہے۔

اسلامی عسکریت پسند گروپ الشاب نے، جو ہوٹلوں اور اہم تنصیبات پر اس طرح کے حملے کرتا ہے، اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پہلے بم دھماکے کے تقریباً 40 منٹ بعد ہوٹل کے باہر ایک اور گاڑی میں دھماکا ہوا۔

عینی شاہدین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جس کار میں مسلح عسکریت پسند ہوٹل تک پہنچے تھے ممکنہ طور پر اُس میں ریمورٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

دوسرے بم دھاکے میں زخمی ہونے والوں میں سات صحافی بھی شامل ہیں جو حملے کے بعد وہاں کوریج کے لیے موجود تھے۔

شدت پسند تنظیم الشباب ماضی میں بھی ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

اگرچہ اس تنظیم کے کئی مضبوط گڑھ ختم کیے جا چکے ہیں، لیکن یہ اب بھی الشباب ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر جنوبی اور وسطی صومالیہ میں مہلک حملے کرتی رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG