رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے کہا ہے کہ یہ حملہ الشباب جیسے دہشت گرد گروپ کے اوچھے ہتھکنڈوں کا عکاس ہے، جن کے پاس موت اور تباہی کے سوا دینے کے لیے کچھ نہیں، جنھیں روکنا لازم ہے۔۔ ادھر، صومالیہ کے صدر نے کہا ہے کہ الشباب مذہب اسلام کو ’توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے‘

اتوار کے دِن الشباب کے شدت پسند گروپ کے ہاتھوں موغادیشو کے ’الجزیرہ محل ہوٹل‘ پر ہونے والے بم حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق، پیر کے روز پانچ مزید لاشیں برآمد ہوئیں، جب کہ چینی سفارت خانے کے عملے کا ایک اہل کار، جو ٹرک میں نصب بم کے اس شدید حملے میں زخمی ہوگیا تھا، فوت ہوگیا۔

ایمبولنس سروسز نے بتایا ہے کہ تلاش کا کام کرنے والوں نے ہوٹل کے تباہ شدہ حصے کے ملبے سے چار مزید لاشیں نکال لی ہیں۔
اِس ہوٹل میں صومالیہ میں چین اور مصر کے سفارت خانے قائم ہیں، جو قانون سازوں اور اخباری نمائندوں میں بے حد مقبول ہے۔ ’نیشنل یونین آف صومالی جرنلسٹس‘ نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں دو مقامی صحافی بھی شامل ہیں، جب کہ ایک اور صحافی شدید زخمی ہوا۔

امریکی صدر براک اوباما، جو اِن دنوں ایتھیوپیا کے دورے پر ہیں، پیر کے روز کہا ہے کہ یہ حملہ الشباب جیسے دہشت گرد گروپ کے اوچھے ہتھکنڈوں کی نشاندہی کرتا ہے، جن کے پاس موت اور تباہی کے سوا دینے کے لیے کچھ نہیں، جنھیں روکنا لازم ہے۔

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمد نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے، عہد کیا ہے کہ اس ہوٹل کو اِسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔

اُنھوں نے الشباب کی مذمت کرتے ہوئے، اِسے دہشت گرد اور شعبدہ باز قرار دیا، جو، بقول اُن کے، ’ہمارے مذہب کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG