رسائی کے لنکس

صومالیہ میں نئی قحط سالی کا سنگین خدشہ


بان کی مون پہلے ہی ایتھیوپیا اور جبوتی کا دورہ کرچکے ہیں، جب کہ صومالیہ میں قیام سے قبل اُنھوں نے کینیا کا دورہ بھی کیا۔ یاد رہے کہ سنہ 2011 میں، صومالیہ کو خشک سالی کی صورت حال درپیش تھی، جس میں ایک اندازے کے مطابق، 260000 افراد فوت ہوئے تھے

اقوام متحدہ کے سربراہ، بان کی مون نے صومالیہ میں دوسری بار قحط سالی کی صورت حال درپیش آنے سے بچنے کے لیے اقدام کرنے پر زور دیا ہے، جہاں، بقول اُن کے، 30 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی بنیادوں پر امداد کی شدید ضرورت ہے۔

مسٹر بان نے یہ بیان بدھ کے روز صومالیہ کے دارالحکومت، موغادیشو کے مختصر دورے کے دوران دیا، جو اُن کے جاری قرنِ افریقہ کے کثیر ملکی دورہ کا ایک حصہ تھا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ صومالیہ سیاسی استحکام کی طرف قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ تاہم، بقول اُن کے، اُنھیں ملک کے بارے میں انسانی بنیادوں پر ’سنگین تشویش‘ لاحق ہے، اور امداد دینے والے ملکوں سے عطیات میں اضافہ کرنے کی استدعا کی۔

عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں کے سربراہان کے ہمراہ، مسٹر بان علاقے کے دورے پر ہیں، جنھوں نے اِسی ہفتے، قرن افریقہ کے ممالک کی امداد کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ دو عشروں سے صومالیہ کو شدت پسندی اور انتشار کا سامنا ہے، جس سے وہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سنہ 2011 میں، صومالیہ کو خشک سالی کی صورت حال درپیش تھی، جس میں ایک اندازے کے مطابق، 260000 افراد فوت ہوئے تھے، جس دوران حکومت کا الشباب کے شدت پسند گروہ کے خلاف تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا۔

بدھ کے روز، مسٹر بان نے کہا ہے کہ ’الشباب کی طاقت کمزور ضرور ہوئی یے، لیکن ابھی یہ نہیں ہوئی‘۔
اُنھوں نے کہا کہ حکومتی افواج اور افریقی یونین کی فوجوں کے لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ تجارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر، حال ہی میں محفوظ بنائی گئی سڑکوں پر رسائی کی اجازت دی جائے۔

صومالیہ کے دورے میں، مسٹر بان اور اُن کے وفد نے صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود اور صومالیہ کے دیگر سیاست دانوں سے ملاقات کی۔

سکریٹری جنرل پہلے ہی ایتھیوپیا اور جبوتی کا دورہ کرچکے ہیں، جب کہ صومالیہ میں قیام سے قبل اُنھوں نے کینیا کا دورہ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG