رسائی کے لنکس

لندن کانفرنس میں صومالیہ کا مستقبل زیرِ غور


صومالیہ دو عشروں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔

صومالیہ دو عشروں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔

صومالیہ میں دو عشروں سے جاری عدم استحکام کے حل سے متعلق مربوط حکمت عملی وضع کرنے کے لیے جمعرات کو لندن میں اجلاس ہو رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سمیت 40 ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس ایک روزہ کانفرنس کے شرکاء صومالیہ کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جہاں 1991ء میں آخری مستحکم حکومت کے خاتمے کے بعد ملک خانہ جنگی اور غربت کا شکار ہے۔

مغربی ممالک کی حمایت یافتہ عبوری صومالی حکومت کو حال ہی میں تباہ کن قحط سالی سے نمٹنا پڑا، جب کہ بحری قزاق اور عسکریت پسند بھی علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

کانفرنس سے قبل صومالیہ کے وزیرِ اعظم ابدیویلی محمد علی نے متنبہ کیا ہے کہ اُن کا ملک فیصلہ کُن موڑ پر کھڑا ہے اور اُس کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کے عالمگیر نتائج مرتب ہوں گے۔

’’صومالیہ کے مسائل مثلاً قزاقی، دہشت گردی، افراتفری، پناہ گزین، قحط سالی، خشک سالی، صرف اس ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس لیے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنے اور کامیاب ہونے کی امید کرنا ہو گی۔‘‘

XS
SM
MD
LG