رسائی کے لنکس

صومالیہ: حکومت اور اعتدال پسند مذہبی گروپ کے درمیان سمجھوتا


صومالیہ: حکومت اور اعتدال پسند مذہبی گروپ کے درمیان سمجھوتا

صومالیہ: حکومت اور اعتدال پسند مذہبی گروپ کے درمیان سمجھوتا

صومالیہ کی عبوری حکومت اور ایک اعتدال پسند مذہبی گروپ نے ملک میں انتہا پسند باغیوں کے خلاف مل کر لڑنے کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں۔

اہلِ سنّت والجماعت اور صومالی حکومت کے نمائندوں نے پیر کے روز ایتھیوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔

سمجھوتے میں اہل سنّت کے لشکریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی فوج میں شامل ہو جائیں۔ اس کے بدلے میں مذہبی گروپ کو صومالیہ کی کابینہ میں پانچ عہدے دیے جائیں گے۔

صومالیہ کے وزیرِ اعظم عمر عبدالرشید علی شرمارکے نے کہا ہے کہ اہل سنّت کو اپنا مددگار بنا لینا، صومالیہ میں استحکام کی بحالی میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے سمجھوتے کو امن کے لیے ایک فتح اور انتہا پسند عناصر کے لیے ایک بھاری شکست بھی قرار دیا ہے۔

اہل سنّت والجماعت کے لشکری وسطی صومالیہ میں الشّباب اور حزب الاسلام، دونوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ یہ دونوں باغی گروپ ملک میں بہت کٹّر شرعی قوانین نافذ کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اہل سنّت والجماعت کے ترجمان محمد حسین اولیا نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صومالیہ کے اعتدال پسند لوگوں نے القاعدہ سے وابستہ انتہا پسند عناصر کے خلاف لڑائى میں تعاون نہ کیا تو صومالیہ کے لوگوں اور اُن کے ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

XS
SM
MD
LG