رسائی کے لنکس

صومالیہ میں ایک اور صحافی قتل


صومالیہ میں ایک اور صحافی قتل

صومالیہ میں ایک اور صحافی قتل

نامعلوم مسلح افراد نے خانہ جنگی کے شکار افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک صحافی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے مقامی صحافی ابو بکر حسن محمود کو موغادیشو کے ضلع وداجیر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر منگل کی شب قتل کیا۔

محمود 'صمالیوین' نامی ایک نجی ریڈیو اسٹیشن کے اسٹیشن ڈائریکٹر تھے جس کی نشریات شمالی موغادیشو میں سنی جاتی ہیں۔

صومالی صحافیوں کی قومی انجمن نے محمود کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔ انجمن کے معتمدِ عمومی محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ محمود کو نشانہ بنائے جانے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔

صومالیہ میں رواں برس صحافیوں کے قتل کی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ریڈیو 'شبیلے نیٹ ورک' کے ڈائریکٹر حسن عثمان عبدی کو موغادیشو میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔

صومالیہ کی عبوری حکومت نے عبدی کے قتل کی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا جب کہ دو مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

گزشتہ برس دسمبر میں بھی ایک حکومتی فوجی اہلکار نے دارالحکومت کی ایک چوکی پر فائرنگ کرکے ایک صحافی عابد سلان ہز کو ہلاک کردیا تھا۔

صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ صومالیہ صحافیوں کے لیے افریقہ کا سب سے خطرناک ملک بن چکا ہے۔

صومالیہ میں صحافیوں کے قتل کی حالیہ وارداتوں کے علاوہ امریکی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ' نے صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے صومالی لینڈ میں ایک صحافی کی حراست اور اس پر تشدد کے واقعہ کے بھی مذمت کی ہے۔

'سی پی جے' کی جانب سے رواں ہفتے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق محمد عبدالرحمن نامی صحافی کو علاقے کی پولیس نے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

کمیٹی کے مطابق صحافی نے خبر دی تھی کہ ایتھوپیا کے باغی علاقے کے ایک قصبے میں مقیم ہے جسے علاقائی پولیس نے جھوٹی قرار دیتے ہوئے عبدالرحمن پر تشدد کیا۔

XS
SM
MD
LG