رسائی کے لنکس

صومالیہ کی عبوری وفاقی حکومت کی اتحادی ایک ملیشیا کے ترجمان نے کہاہے کہ اس کے فوجی الشباب کے باقی رہ جانے والے اہم گڑھ کسماؤ کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت نواز ملیشیا راس کمبونی کا کہناہے کہ اسلامی عسکریت پسند تنظیم متوقع حملے کےمقابلے کے لیے ساحلی شہر کے رہائشیوں کو اکھٹا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

طویل عرصے سے جنوبی صومالیہ پر تعطل میں پڑے ہوئے حملے کا مقصد الشباب سے اس ملک کے تیسرے شہرکا کنٹرول چھیننا ہے ۔ افریقی یونین کے دستوں کی مدد کے بعد صومالی سرکاری فورسز اور اتحادی ملیشیاؤ ں کی کارروائیوں میں تیزی سے آنے سے عسکریت پسند اپنے زیر قبضہ کئی علاقوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

راس کمبونی سے تعلق رکھنے والے عبدی نصیر سیرار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کسماؤ پر بڑا حملہ آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کئی محاذوں پر کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری فورسز کسماؤ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ہم کسماؤ میں بندرہ گاہ اور کئی دوسرے قصبوں مثلاً بولا حاجی اور جلب کے راستے داخل ہونے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور ان تمام راستوں سے ہم کسماؤ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

افریقی یونین کی فورسز کا کہناہے کہ انہوں نے بی بی نامی قصبے پر قبضہ کرلیا ہے جو کسماؤ سے 75 کلومیٹر اور حال ہی الشباب سے چھینے گئے ایک اور قصبے افمادو سے 45 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔

جیسے جیسے آخری معرکہ قریب آرہاہے، کسماؤ کے ہزاروں رہائشیوں کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہاہے۔

سیرار کا کہناہے کہ راس کمبونی کسماؤ کی اندرونی صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے یہ خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ الشباب نے مقابلے پر آمادہ کرنے کے لیے کئی مقامی قبیلوں کے سرداروں سے ملاقات کی ہے۔

لیکن کئی دوسرے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ الشباب نے افمادو اور کساؤ کے درمیان سڑک کے نصف فاصلے پر واقع بیرتا دھیر نامی مقام پر ایک نئی دفاعی لائن قائم کی ہے۔

بیرتا دھیر کسماؤاور افمادو کو ملانے والی سڑک کے وسط میں واقع ہے ۔

بیرتا دھیر عسکریت پسندوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت کا اہم مقام ہے اور اس مقام سے محرومی کی صورت میں الشباب کے لیے ساحلی شہر کسماؤ کا دفاع مشکل ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG