رسائی کے لنکس

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کا 'بکارا بازار'ایک عرصے تک صومالی حکومت کی کمزوری کی منہ بولتی تصویر بنا رہا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یہ وسیع بازار بھی شہر کے دیگر علاقوں کی طرح القاعدہ سے منسلک مسلح شدت پسندوں کے زیرِ قبضہ تھا اور سرکاری افواج محض صدارتی دفاتر کے اردگرد کے چند کلومیٹر کے علاقے تک محدود تھیں۔

لیکن گزشتہ سال اگست میں جب افریقی یونین کے فوجی دستوں نے 'الشباب' کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا تو انہوں نے ابتدا میں ہی بکارا کے بازار کا قبضہ تنظیم کے جنگجووں سے چھین لیا اور بالآخر کئی ہفتوں کی جھڑپوں کے بعد جنگجووں کو دارالحکومت سے باہر دھکیل دیا۔

علاقے میں لڑائی بند ہونے کے فوری بعد 'وائس آف امریکہ' کے نمائندے پیٹر ہینلین نے بکارہ کے اس بازار کو دورہ کیا تھا جہاں انہیں دکانوں کے کھنڈرات ملے تھے۔ اب سات ماہ بعد ہینلین نے ایک بار پھر علاقے کا دورہ کیا ہے تاکہ وہاں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاسکے۔

ہینلین کے بقول سات برس قبل یہ جگہ تباہی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ انہوں نے آزادی سے بازار کی گلیوں کا دورہ کیا تھا کیوں کہ اس وقت وہاں ملبے کی حفاظت پر مامور محض چند محافظوں کے سوا اور کوئی موجود نہیں تھا۔

لیکن ان کے بقول آج، سات ماہ بعد انہیں بکارا میں ایک بالکل برعکس منظر دیکھنے کو ملا۔وہاں نئی دکانیں تعمیر ہورہی ہیں اور بازار میں خریداروں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

سات ماہ قبل افریقی یونین کے امن دستوں نے الشباب کے جنگجووں سے جو جنگ لڑی تھی ، اب صومالی دارالحکومت میں اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔

بکارا کا بازار دوبارہ آباد ہوگیا ہے اور زندگی اپنے معمول پر لوٹ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG