رسائی کے لنکس

موغادیشو میں کار بم دھماکے میں دو پولیس اہل کار ہلاک


موغادیشو میں ایک کار بم دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

موغادیشو میں ایک کار بم دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

صومالیہ کا عسکریت پسند گروپ الشاب ، جو حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے انداز کا سخت قسم کا شرعی نظام نافذ کرنا چاہتا ہے۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہفتے کے روز پولیس کی ایک پڑتالی چوکی کے قریب کاربم دھماکے سے کم از کم دو پولیس اہل کار ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے۔

موغادیشو کی علاقائی انتظامیہ کے ایک ترجمان عبدی فتاح عمر حالن نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ جرائم پیشہ افراد نے ایک بار پھر اپنے سنگ دلانہ حملوں کا اعادہ کیا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے موغادیشو کے مضافاتی علاقے سینکادھیر میں پولیس کی ایک پڑتالی چوکی ان کا نشانہ بنی۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں ایک پولیس افسر ہلاک اور چار دوسرے افراد زخمی ہوئے ، لیکن موقع پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہاں دو نعشیں پڑی دیکھیں تھیں۔

دھماکے سے قریب واقع چائے خانے اور اسٹالوں کو نقصان پہنچا۔

ایک منی بس ڈرائیور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میں نے دو پولیس اہل کاروں کی نعشیں دیکھی ہیں۔

صومالیہ کا عسکریت پسند گروپ الشاب ، جو حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے انداز کا سخت قسم کا شرعی نظام نافذ کرنا چاہتا ہے۔

صومالیہ کی حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔

الشاب کے سرکاری ریڈیو اندیس نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ایک بہادر شہید نے بڑی مقدار میں بارود سے بھری ہوئی گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرا دی۔

مقامی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پویس نے موغا دیشو جانے والی ایک گاڑی کو روکا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت موغادیشو میں ایک انتخابی مرکز میں نئی پارلیمنٹ کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG