رسائی کے لنکس

صومالیہ: اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کی بحالی

  • مائیک سنڈرلینڈ

اقوام متحدہ کے ایک سینیئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور دوسری بین الاقوامی تنظیمیں لگ بھگ 17 سال کے بعد صومالیہ میں دوبارہ اپنی امدادی سرگرمیاں شروع کرنے والی ہیں۔ یہ اعلان القاعدہ سے منسلک صومالی شورش پسند گروپ الشباب کی جانب سے، ان کے کنٹرول کے علاقے میں تین عیسائی امدادی تنظیموں کے کام پر پابندی کے بعد سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے آگسٹین ماہگا نے نیروبی میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا دفتر آئندہ 60 روز میں ہمسایہ ملک کینیا سےصومالیہ میں دوبارہ منتقل ہورہاہے۔

ان کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ صومالیہ میں امن کے عمل کو تقویت دینے میں ایک اہم کردار ادا کرچکاہے۔ نیروبی میں ہم نے عارضی بنیادوں پر اپنا ایک بڑا دفتر قائم کررکھاہے ، جسے ہم جتنی جلد ممکن ہو، اور جب سیکیورٹی کی صورت حال اس کی اجازت دیں، موگادیشو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

شورش پسند گروپ الشباب نے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنوبی اور وسطی صومالیہ کے زیادہ تر حصے پر اس کا قبضہ ہے، پیر کےروز تین عیسائی امدادی تنظیموں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سرکاری پریس ریلیز میں ، ورلڈ ویژن، ایڈونٹسٹ ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف اور ڈائیکونیاپر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایک اسلامی ملک میں عیسائی نظریات کا پرچار کررہی ہیں۔

یہ اعلان طالبان شورش پسندوں کی جانب سے افغانستان میں چھ امریکیوں، ایک برطانوی اور جرمن باشندے سمیت عیسائی امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

صومالیہ میں ورلڈ ویژن کی ترجمان اماندا کوئچ نے وی او اے کو بتایا کہ اگرچہ ان کی تنظیم ، عیسایت کی اقدار پر قائم کی جانے والی ایک تنظیم ہے ، لیکن وہ صرف مسائل میں گرفتار انتہائی ضرورت مند افراد کو مدد کی فراہمی کا کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ بیان بہت افسوس ناک ہے ، خاص طورپر ایک ایسے وقت میں جب کہ صومالیہ میں 36 لاکھ سے زیادہ افراد کو، جن میں سات لاکھ سے زیادہ بچے ہیں، انسانی ہمدردی کی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ اگر حالات نے اجازت دی تو ہم ان ضرورت مند بچوں کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہیں گے۔ جتنے عرصے تک ممکن ہوسکے،ہم ان کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

ان چند امدادی تنظیموں کے علاوہ جوابھی تک موگادیشو میں کام کررہی ہیں، انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والی زیادہ تر تنظیمیں خود مختار اور نیم خود مختار علاقوں صومالیہ لینڈ اور پنٹ لینڈ میں موجود ہیں ۔ ان دونوں علاقوں کو امدادی گروپوں کے لیے نسبتاً محفوظ خیال کیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی نئی تجویز کے تحت ان علاقوں میں اقوام متحدہ کے اداروں کی موجودگی میں اضافہ ہوجائے گا۔

پنٹ لینڈ میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسزخطے کے پہاڑی علاقوں میں الشباب سے منسلک ملیشیا کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دور افتادہ پہاڑی علاقے صومالیہ میں آنے والے غیر ملکی جہادی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کے چھپنے کے لیے ایک محفوظ مقام ثابت ہوسکتے ہیں۔

تاہم اب یہ موگادیشو کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے آگسٹین ماہگا کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی چھوٹی سی تکون سے، جس کی حفاظت افریقی یونین کے امن کار کررہے ہیں، بین الاقوامی گروپوں کو رفتہ رفتہ شہر میں جانے کی اجازت دے دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہم موگادیشو کے ایئرپورٹ کے اردگرد ، جہاں امن کاروں کا ہیڈ کواٹر زہے،اقوام متحدہ کے اسٹاف کے رہنے کا انتظام کررہے ہیں ۔ان تنصیبات کی تکمیل کے بعد یہاں پر اقوام متحدہ کا اسٹاف تعینات کیا جائے گا ، اور 1993 ء کے بعد سے یہ اس شہر میں اقوام متحدہ کی پہلی بار مستقل بنیادوں پر موجودگی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG