رسائی کے لنکس

کوئى بھی فریق صومالیہ کو مستحکم نہیں کرسکتا: اقوامِ متحدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صومالیہ کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُس ملک کے تنازعے کے کسی بھی فریق میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ دوسروں پر اپنی مرضی کو مسلّط کرسکے اور انتشار زدہ اور جنگ سے تباہ حال ملک کو مستحکم کرسکے۔

یہ رپورٹ، جسے صومالیہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے نگراں گروپ نے مرتّب کیا ہے، منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کردی گئى۔ اس رپورٹ کے کچھ حصّے اخباری اداروں کے لیے پچھلے ہفتے جاری کردیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مصنّفین کا کہنا کہ صومالیہ کی عبوری حکومت کو ”ہر سطح پر“ بدعنوانیوں نے کمزور کردیا ہے اور اُس کے فوجی زیادہ تر انفرادی طور پر حکومت کے عہدے داروں یا فوجی افسروں کے وفادار ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ الشّباب اور حزب الاسلام جیسے باغی گروپ زیادہ منظّم ہیں اور اُن میں نظم و ضبط ہے۔ لیکن اُنہیں عوامی حمایت حاصل نہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ غالب امکان یہ ہے کہ داخلی تفرقے اُنہیں زک پہنچائیں گے۔

رپورٹ میں صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے جو سفارشات پیش کی گئى ہیں، اُن میں مخصوص افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنا اور ملک کو اسلحہ کی فراہمی پر 1992 سے عائد اُس پابندی پر نظر ثانی بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ایک معمول کے مطابق اُس پابندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG