رسائی کے لنکس

عورتوں کا باسکٹ بال کھیلنا غیر اسلامی ہے، صومالی علماء گروپ


لندن اولمپکس باسکٹ بال ۔ فائل فوٹو

سلامی اقدار میں عورتوں کو کھلاڑیوں کا مختصر لباس پہننے اور اپنے جسم اور خوبصورتی کی نمائش کی اجازت نہیں ہے جہاں ان مقابلوں کو دیکھنے والے مرد ہوں۔

صومالیہ میں بااثر دینی راہنماؤں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ عورتوں کا باسکٹ بال کھیلنا غیر اسلامی ہے اور مذہب کے لیے خطرہ ہے۔

صومالی علماء کی کونسل کی جانب سے جمعرات کے روز یہ بیان ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا جب پٹ لینڈ کے صدرمقام غاروی میں خواتین کے قومی باسکٹ بال ٹورنامنٹ کی تیاریاں جاری ہیں۔

علماء کونسل کے سربراہ شیخ بشیر احمد صالت نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خبردار کررہے ہیں کہ عورتوں کا باسکٹ بال کھیلنا اسلامی قوانین، ہماری ثفافت اور اقدار کے منافی ہے اور یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں خواتین کو خرابی اور بدچلنی کی جانب آسانی سے راغب کیا جا سکتا ہے۔

یہ صومالیہ میں خواتین کا پہلا قومی باسکٹ بال ٹورنامنٹ ہے اور اس میں ملک کی چار ریاستوں اور دارالحکومت موغادیشو کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

شیخ صالت کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی اسلامی اقدار کے تحفظ کا حق حاصل ہے جس میں عورتوں کو کھلاڑیوں کا مختصر لباس پہننے اور اپنے جسم اور خوبصورتی کی نمائش کی اجازت نہیں ہے جہاں ان مقابلوں کو دیکھنے والے مرد ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رویے غیر مسلموں کو یہ موقع فراہم کرسکتے ہیں کہ وہ نوجوان مسلمانوں کے ذہنوں کو بدل سکیں۔

صومالیہ ریلیجس آرگنائزیشن نسبتاً کم اعتدال پسند د مسلم دینی راہنماؤں کی تنظیم ہے جو فتوے جاری کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ گروپ کٹڑ بنیاد پرست گروپ الشاب کے خلاف تبليغ کرتا ہے ، جو عورت مرد کے جنسی ملاپ پر سنگ ساری اور کئی دوسرے جرائم پر سر قلم کرنے سمیت سخت سزائیں دے چکا ہے۔

علما کی تنظیم نے اس سال کے شروع میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں خواتین کے لیے 30 فی صد کوٹہ مختص کرنے کے خلاف انتباہ جار ی کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG