رسائی کے لنکس

لیکن اکثر من پسند کھانوں کی بھوک بلاوجہ بھی جاگ اٹھتی ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمیں میٹھے اور مرغن کھانوں کی طلب کیوں ہوتی ہے اور اس طلب کا مطلب کیا ہے؟

زبان کے ذائقے کےحوالے سے اگر دیکھا جائے تو ہمارا رویہ خاصا حیران کن ہے مثلاً ہمیں خوشی کے موقع پر کیک یا مٹھائی کی طلب ہوتی ہے لیکن، ہم اپنی اداسی کا علاج بھی مرغن اور میٹھے کھانوں سے کرتے ہیں۔

لیکن اکثر من پسند کھانوں کی بھوک بلاوجہ بھی جاگ اٹھتی ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن، کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمیں میٹھے اور مرغن کھانوں کی طلب کیوں ہوتی ہے اور اس طلب کا مطلب کیا ہے؟

اس حوالے سے ماہر غذائیت شیرون پالمر جنھوں نے 'دی پلانٹ پاورڈ لائف' نامی کتاب لکھی ہے وہ کہتی ہیں ایک عام خیال کے مطابق کھانوں کے لیے ہماری یہ طلب دراصل غذائی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

جیسا کہ چاکلیٹ کی بھوک کو میگنیشیم کی کمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ لیکن، سائنس دانوں کے پاس اس خیال کی حمایت کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔

اسی طرح کئی مطالعوں میں کھانوں کی طلب کو غذائی ضرورت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے لیکن، اگر یہ بات سچ ہے تو آپ کو سیب یا بروکلی کھانے کی طلب ہونی چاہیئے تھی۔ لیکن، اس کے بجائے لوگ آئس کریم اور فرنچ فرائز کھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ، لوگوں کو مرغن اور میٹھے کھانوں کی طلب ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چاکلیٹ کی طلب کے حوالے سے یہ مقبول نظریہ بھی اس وقت غلط ثابت ہو جاتا ہے جب ہمیں پتا چلتا ہے کہ ایک اونس لوکی کے خشک بیجوں میں ایک اونس چاکلیٹ سے دوگنی میگنیشیم ہے۔ لیکن، ہم میں سے کسی کو کبھی لوکی کے بیج کھانے کی طلب محسوس نہیں ہوتی ہے۔ جبکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ غذائیت سے بھرپور مکمل غذا کھانے والے لوگ بھی کمفرٹ کھانوں کی طلب محسوس کرتے ہیں۔

ماہر غذائیت شیرون پالمر نے کہا کہ اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا ہے کہ کھانوں کی طلب حقیقی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پیزا کی طلب اس شخص کی جذباتی ضروریات کو پورا کرتی ہے جسے اسٹریس ایٹنگ کہا جاتا ہے۔ خاص طور پر ذہنی دباؤ کا ہمارے کھانے پینے کی ترجیحات پر اثر پڑتا ہے جس سے ہمیں میٹھا کھانے کی طلب ہوتی ہے۔

مسائل اور پریشانی کے باوجود کھانے پینے کے اس رویہ کو سائنس کی زبان میں 'کمفرٹ ایٹنگ' کا نام دیا جاتا ہے۔

ایک پچھلے مطالعے میں امریکی تحقیق کاروں کو زبان پر موجود ذائقے کے خلیات پر ذہنی دباؤ میں متحرک ہونے والے ایسے ہارمونز ملے ہیں۔ جو پریشانی کی صورت میں لذت، مٹھاس اور نمکین ذائقے کی شناخت کرنے والےخلیات کو فعال بنا دیتے ہیں اور جب ہم اپنے من پسند کھانے کھاتے ہیں تو ان کے اثرات سے دماغ کا وہ حصہ جو جذبات کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کی سرگرمیاں رک جاتی ہیں ،جس کے رد عمل کے طور پر ہمیں اپنی غذا ذہنی تناؤ کے مقابلے میں سکون آور دوا معلوم ہوتی ہے۔

یہاں تین ایسی چیزوں کی طلب کا ذکر ہے جو آپ کی صحت کے مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔

پانی کی طلب: پانی کی ضرورت سے زیادہ پیاس محسوس کرنے کو ذیابیطس کی ابتدائی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن، پانی کی یہ طلب اس پیاس سے مختلف ہوتی ہے جو تھکاوٹ کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے۔ اس میں پانی کی شدت سے طلب کے ساتھ پیشاب بھی بار بار آتا ہے۔ اگر آپ کو ذیا بیطس ہے تو، آپ کے خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ ہوتی ہے، جسے فلٹر یا جذب کرنے کے لیے گردے کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اور اکثر یہ اضافی شکر پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے پیشاب زیادہ آتا ہے اور گلا خشک رہتا ہے جس کی وجہ سے باربار پانی کی طلب محسوس ہوتی ہے۔

نمک کی طلب: ہمیں حقیقت میں نمک کی طلب نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ، ہماری غذا سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ کو نمکین کھانوں کی طلب رہتی ہے تو، یہ 'ایڈیسنس بیماری' کی علامت ہو سکتی ہے۔ جس میں ایڈرنل غدود جو گردوں کے اوپر ہوتا ہے ہارمونز کی پیداوار نہیں کرتا ہے، جس میں اسٹریس ہارمون 'کارٹی سول' اور الڈوسٹیرون ہارومون شامل ہیں، جو بلڈ پریشر کو متوازن رکھتا ہے، ایڈیسنس بیماری کے نتیجے میں بلڈ پریشر خطرناک حد تک نیچے گر سکتا ہے۔

برف کی طلب : بغیر غذائیت والی چیزوں کی طلب مثلاً مٹی، کاغذ اور برف کی بھوک کو غیر حقیقی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اس طرح کی چیزیں کھانے کی طلب کو سائنس دان بھی اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکے ہیں۔ تاہم بعض مطالعوں میں برف کھانے کی طلب کو آئرن کی ناکافی فراہمی کے ساتھ منسلک کیا ہے ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ برف چبانے سے دماغ کی طرف خون کا بہاؤ تیز ہوتا ہے ۔جس سے آئرن کی کمی سے ہونے والی سستی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG