رسائی کے لنکس

ہیکرز کا گروپ، جو اپنا نام ’گارڈئنز آف پیس‘ ظاہر کرتا ہے، دھمکی دے چکا ہے کہ جو لوگ ’دِی انٹرویو‘ دیکھنے جائیں گے، اُنھیں ’دردناک نتیجہ بھگتنا پڑے گا‘۔۔۔ادھر، خاتون ترجمان، جین ساکی نے کہا ہے کہ، ہم فلموں کے مشتملات کی اجازت کے کاروبار میں ملوث نہیں، نہ ایسا ارادہ ہے

میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ’سونی پکچرز‘ کو ہیک کرنے میں شمالی کوریا ملوث تھا، جب کہ سکیورٹی تشویش کے باعث، سونی نے اپنی فلم کی نمائش منسوخ کردی ہے۔ یہ فلم شمالی کوریا کے لیڈر، کِم جونگ اُن کو قتل کیے جانے کی مصنوعی سازش کے پلاٹ پر مبنی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، امریکی عہدے داروں نے بتایا ہے کہ تفتیش کار اِس سائبر حملے کے تانے بانے شمالی کوریا سے ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

فلم ’دِی انٹرویو‘ کی ہیکنگ کے معاملے پر ہزاروں دستاویزات کے افشاع کی صورت میں، بڑی سطح کی رازداری سے پردہ فاش ہوا ہے، جس سے دہشت گرد حملوں کے خدشات بڑھے ہیں۔

تاہم، یہ واضح نہیں آیا تفتیش کاروں نے یہ کس طرح طے کیا، یا یہ کہ وائٹ ہاؤس اِس کا جواب کس طرح دے گا۔

بدھ کے روز، سونی نے بتایا کہ وہ 25 دسمبر سے فلم ’دِی انٹرویو‘ کے اجرا کے پروگرام کو ترک کر رہا ہے، جس سے پہلے کئی ایک اہم سنیما ہالوں نے فلم کی نمائش سے معذرت کر لی تھی؛ اور یہ کہ، اس وقت فلم کی رلیز کا کوئی پروگرام نہیں۔

ہیکرز کا گروپ، جو اپنا نام ’گارڈئنز آف پیس‘ ظاہر کرتا ہے، دھمکی دے چکا ہے کہ جو لوگ ’دِی انٹرویو‘ دیکھنے جائیں گے، اُنھیں ’دردناک نتیجہ بھگتنا پڑے گا‘۔

اس گروپ نے 11 ستمبر 2001ء کے امریکہ پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں جہاں اس فلم کی نمائش کی جا رہی ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے اِن میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ محکمے نے اس فلم کی نمائش کی حمایت کی ہے۔

خاتون ترجمان، جین ساکی نے کہا ہے کہ، ہم فلموں کے مشتملات کی اجازت کے کسی کاروبار میں ملوث نہیں، نہ ایسا ارادہ ہے۔

ساکی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایشیا کے چوٹی سے سفارت کار، ڈینئیل رَسل نے ایشیا کی خارجہ پالیسی سے متعلق عام بات چیت کے لیے سونی کے منتظمین سے گفتگو کی ہے۔ تاہم، اُنھوں نے اس رپورٹ کو مسترد کیا کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی سفیر، رابرٹ کنگ نے یہ فلم دیکھی ہے۔

آن لائن اخبار، ’ڈیلی بیسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایسی اِی میلز دیکھی ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ کم از کم دو امریکی اہل کاروں نے فلم ’دِی انٹرویو‘ کی غیر ایڈٹ شدہ کاپی دیکھی ہے، اور اُنھوں نے یہ اس فلم کی نمائش کی تائید کی ہے۔

XS
SM
MD
LG