رسائی کے لنکس

اسٹیٹ آف دی یونین: ’دہشت گردی کا خطرہ اب بھی باقی ہے‘


صدر اوباما نے ڈرون کے استعمال کو محدود کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نگرانی کے پروگرام کو بہتر کیا جائے گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی ’ضرورت باقی ہے‘۔ تاہم ’حقیقی ضرورت‘ کے علاوہ وہ کسی نئی جنگ کے حق میں نہیں۔ صدر اوباما نے ڈرون کے استعمال کو ’محدود کرنے‘ کے احکامات جاری کیے ہیں۔

منگل کی رات ایوانِ نمائندگان کے ایک مشترکہ اجلاس سے سالانہ ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں اُنھوں نے عراق میں جنگ کے خاتمے اور افغان جنگ، جس کا بہت جلد خاتمہ ہونے والا ہے، کو سراہا۔ اُنھوں نے کہا کہ عراق سے ساری فوج کا انخلا ہو چکا ہے جب کہ اس سال کے آخر تک افغانستان کا مشن تکمیل کو پہنچے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ 2014ء کے بعد نیٹو کے ہمراہ ایک چھوٹا امریکی فوجی دستہ افغانستان میں رہ سکتا ہے، تاکہ تربیت کا کام انجام دیا جاسکے، افغان افواج کو مدد فراہم کی جائے اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ اب بھی باقی ہے اور زور پکڑ رہا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے یمن، صومالیہ، عراق اور مالے میں انتہا پسند نیٹ ورکس کی طرف توجہ دلائی۔

صدر نے کہا کہ امریکہ کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن، قوم کی قیادت اور سلامتی کا دارومدار صرف ملک کی فوج پر نہیں ہونا چاہیئے۔

صدر اوباما نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے ڈرون کے استعمال کو محدود کرنے کے احکامات دیے ہیں، اور اسی لیے، وہ چاہتے ہیں کہ قومی نگرانی کے پروگرامز میں اصلاحات کی جائیں، جو گذشتہ برس امریکی انٹیلی جنس کے سابق اہل کار، ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے راز افشا کرنے کے بعد گہری پڑتال کا مرکز بنے۔

صدر اوباما

صدر اوباما



صدر نے گواتانامو بے کے امریکی فوجی قیدخانے کو بند کیے جانے کے اپنے ہدف کا اعادہ کیا۔

اُنھوں نے ایک ’مضبوط اور اصولی‘ امریکی سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اِسی کے باعث، شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ اُنھوں نے عہد کیا کہ امریکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرتے ہوئے شام کے بہتر مستقبل کی طرف بڑھے گا، جو ملک، بقول اُن کے،’آمریت، دہشت گردی اور ڈر خوف سے آزاد ہوگا‘۔

اُنھوں نے اسرائیل-فلسطین امن عمل کے حصول کی حمایت کے حوالے سے امریکی سفارت کاری کے کردار کو سراہا۔

ایران کے حوالے سے، صدر اوباما نے کہا کہ اگر عالمی برادری کے نقطہ نظر کو اہمیت دیتے ہوئے، ایران میسر مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے، تو اُس صورت میں امریکہ بغیر جنگ کے، سلامتی کو درپیش ایک اہم چیلنج کے حل میں کامیابی حاصل ہوگی۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق ایران کے ساتھ مذاکرات مشکل ضرور ہوں گے، اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب نہ ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ کہیں ایران جوہری بم تو نہیں بنا رہا، معائنے کا عمل ضروری ہوگا۔

صدر اوباما نے کہا کہ اگر صدر کینیڈی اور ریگن سوویت یونین کے ساتھ مذاکرات کرسکتے تھے، ’تو یقینی طور پر، امریکہ کم طاقتور دشمنوں سے بات چیت کر سکتا ہے‘۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کو موقع دیا جائے، اور اگر کانگریس کی طرف سے ایران کے خلاف نئی تعزیرات کے سلسلے میں کوئی قانون سازی کی گئی تو وہ اُسے ویٹو کردیں گے۔ لیکن، بقول اُن کے، ’اگر ایران نے سمجھوتے کی پاسداری نہ کی، تو وہ خود اُس کے خلاف مزید قدغنیں لگانے سے پس و پیش نہیں کریں گے۔

صدر نے کہا کہ وہ ایک ایک حکم نامہ جاری کرنے والے ہیں، جس کے ذریعے، کانٹریکٹروں کی کم سے کم اجرت 7.25 ڈالر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 10.10ڈالر فی گھنٹہ کی جائے گی؛ جو دراصل، اُن متعدد منصوبوں میں شامل ہے، جو اُن کی رواں سال کی حکمتِ عملی کی ترجیحات میں شامل ہیں، جن کی وہ ایوان نمائندگان سے منظوری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ وہ کانگریس پر اِس بات کے لیے بھی زور دیں گے کہ وہ اِمی گریشن اصلاحات سے متعلق اقدام کرے، جسے گذشتہ برس سینیٹ منظور کر چکی ہے۔ یہ قانون سازی ایوانِ نمائندگان کی سطح پر قدامت پسند قانون سازوں کی شدید مخالفت کے باعث تعطل کا شکار ہوگئی تھی، لیکن اب اِس بات کا عندیہ مل رہا ہے کہ ریپبلیکن قائدین کے ایوان میں اِس بِل کو بڑھتی ہوئے حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

صدر اِس بات کےکوشاں رہے ہیں کہ عہدے کی بجا آوری کے ضمن میں پسندیدگی کی شرح میں بہتری لا سکیں، جس میں گذشتہ سال کے تنازعات کےنتیجے میں 50 فی صد کی کمی واقع ہوگئی تھی، جس میں صحت عامہ کی نگہداشت کے نئے قومی قانون کے تحت شروع کی جانے والی کم خرچ انشورنس کی اسکیم سے متعلق ’آن لائن پورٹل‘ میں مسائل آجانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

ادھر، ملک اور عوام کی بہتری کے لیے ’مل کر کام کرنے‘ پر زور دیتے ہوئے، صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ 2014ء کو عمل کے سال کے طور پر دیکھتے ہیں؛ اور یہ کہ، ’امریکیوں کی اکثریت یہی کچھ چاہتی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ آئندہ مہینوں کے دوران، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم مل کر کیا پیش رفت حاصل کر سکتے ہیں۔ اِس ضمن میں، صدر نے کہا کہ ایوان ِنمائندگان کے ارکان کو چاہیئے کہ وہ امریکی شہریوں کی زندگیوں، اُن کی توقعات اور خواہشات پر دھیان مرکوز رکھیں۔

صدر نے کہا کہ وہ اِس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ نسل، علاقے اور پارٹی کی تفریق سے بالا تر ہو کر، اور اِس بات کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہ کون کم عمر یا عمر رسیدہ ہے، امیر ہے یا غریب، ’سب کو یسکاں مواقع‘ فراہم کرنے میں پختہ عقیدہ ہونا لازم ہے۔

صدر نے زور دے کر کہا کہ ہم سب کا اِس بات پر پختہ یقین ہونا چاہیئے کہ، اگر آپ سخت محنت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو آپ کو آگے بڑھنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔

معیشت کے فروغ کے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے، صدر نے کہا کہ کساد بازاری کا معاملہ سنگین نتائج برآمد کرتا ہے۔ 30ء کی دہائی کے تاریخی کساد بازاری کا ذکر کرتے ہوئے،
اُنھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور عالمی مسابقت کے باعث بہت سے اچھے، متوسط درجے کے روزگار کے مواقع چھن گئے تھے، اور کساد بازاری نے معاشی بنیادوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، جس صورت حال کی بہتری پر توجہ مرتکز کی گئی ہے، اور بہتری کی طرف رخ موڑ دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آج چار برس کی معاشی افزائش، اشتراکی اداروں کے منافعے کی شرح اور اسٹاکس کی قیمتیں بڑھی ہیں؛ اور چوٹی کی سطح پر کام انجام دینے والوں کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن، اجرتوں کی شرح میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا۔ عدم مساوات گہری ہوچکی ہے اور اوپر بڑھنے کے امکانات رک سے گئے ہیں۔ غریب طبقے کے حالات بہتر نہیں ہوئے۔

خواتین کے حوالے سے، صدر اوباما نے کہا کہ یکساں کام کے لیے مساوی اجرت کے حق کو تسلیم کیا جائے، کیونکہ، بقول اُن کے، جب ایک خاتون کامیاب ہوتی ہے، تو دراصل امریکی معاشرے کی جیت ہوتی ہے۔

بچوں کی تعلیم سے متعلق، اُن کا کہنا تھا کہ بندوبست کیا گیا ہے کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم میسر ہو، اور تعلیم اور تربیت تک اُن کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

اُنھوں نے اعلان کیا کی نائب صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ایک کییٹی تشکیل دی جائی گی، جو امریکیوں کی بہتر تربیت اور بہتر روزگار کے مواقع کی فراہمی کا سبب بنے گی۔

صدر نے کہا کہ بنیادی تحقیق بے انتہا اہمیت کی حامل ہے۔ بقول اُن کے، جو قوم تحقیق میں پیچھے رہے گی، وہ ابتری کا شکار ہو جائے گی، اور امریکہ ایسا نہیں کرسکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ قدرتی گیس کے ملکی ذخائر اور وسائل کو احتیاط سے کام میں لایا جارہا ہے۔ صاف شفاف توانائی کے ذرائع سے متعلق، اُن کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی پر اب بھی زور دیا جا رہا ہے، اور یہ کہ ہر منٹ میں ایک اضافی امریکی گھر شمسی توانائی کا استعمال شروع کر رہا ہے۔

صدر اوباما کے خطاب پر ری پبلکن کی طرف سے جواب میں، ریاست واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس، کیتھی مک موریس راجرز نے کہا ہے کہ اوباما امیر اور متوسط طبقے کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی بات کر رہے ہیں، لیکن، بقول اُن کے’ یہ فاصلہ بڑھ رہا ہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ مہینے جتنے امریکیوں کو روزگار ملا اس سے زیادہ امریکیوں نے روزگار ڈھونڈنا بند کردیا۔ بقول اُن کے، لوگوں کی بڑی تعداد معاشی طور پر کمزور ہوتی جارہی ہے، کیونکہ صدر اوباما کی پالیسیاں لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔

ری پبلی کن قانون سازوں کی اکثریت کم سے کم تنخواہ بڑھانے کے حق میں نہیں ہے اور سمجھتی ہے کہ اس سے کاروباری طبقے پر معاشی دباوٴ بڑھے گا اور ان کی روزگار مہیا کرنے کی صلاحیت کم ہو گی۔

مسرور خان، ریاستِ ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی سے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ممبر آف کونسل ہیں۔ اُن کے بقول، یہ کم سے کم اجرت میں اضافے سے متعلق صدارتی حکم نامہ تو شاید اتنی مخالفت کا باعث نہ ہو، کیونکہ بہت سی ریاستیں از خود بھی یہ اقدام کر سکتی ہیں۔ لیکن، میں نہیں سمجھتا کہ کم سے کم اجرت کو بڑھانے کا قانون کانگریس سے منظور ہوسکتا ہے، کیونکہ وہاں ری پبلیکنز کی اکثریت ہے۔

صدر اوباما نے معاشی تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ، امیگریشن اصلاحات سے اگلی دو دہائیوں میں بجٹ خسارہ کم ہوگا اور امریکی معیشت میں ایک کھرب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔

اگر ہم معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں، تو اب وقت آ چکا ہے کہ ہم کاروباری طبقے، مزدور رہنماوں، مذہبی رہنماوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطالبات پر توجہ دیں اور اپنے ٹوٹے ہوئے امیگریشن نظام کی اصلاح کریں۔

اس پر اپنے رائے دیتے ہوئے، مسرور خان نے کہا کہ اُن کے خیال میں امی گریشن اصلاحات پر کام ہو سکتا ہے۔ ’فرق یہ ہوگا کہ کانگریس امی گریشن اصلاحات کو ایک ایک کرکے منظور کرے گی، جب کہ ڈیموکریٹس مجموعی اصلاحات کے حق میں ہیں۔
XS
SM
MD
LG