رسائی کے لنکس

ورجینیا میں سوسائٹی آف اردو لٹریچر ’سول‘ کے ماہانہ اجلاس میں وائس آف امریکہ کی اردو سروس کی خدمات کے اعتراف میں خراج ِ تحسین پیش کیا گیا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہر مہینے کے آخری ہفتے کے روز اُردو زبان سے محبت رکھنے والے ابو الحسن نغمی اور ان کی بیگم یاسمین نغمی اپنی زبان سے ناطہ برقرار رکھنے اور امریکہ جیسے ملک میں اردو کی ترویج کے لیے سول (سوسائٹی آف اردو لٹریچر) کے تحت ادبی محفل کا اہتمام گذشتہ آٹھ برس سے باقاعدگی سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اس اجلاس کی ایک انفرادیت، حکیم محمد سعید کے رسالے نونہال کے ماہانہ اجلاسوں میں وقت کی سختی سے پابندی کی یاد دلاتی ہے کہ سول کا اجلاس ہمیشہ ایک بج کر 29 منٹ پر شروع کر دیا جاتا ہے۔

سول کے اس ادبی اجلاس کی خاص بات واشنگٹن ڈی سی میں قائم وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو خراج ِتحسین پیش کرنا تھا جو گذشتہ کئی دہائیوں سے اردو زبان میں خبریں پہنچانے کا ایک مستند ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

اجلاس کے مہمان ِخصوصی فیض رحمان (چیف اردو سروس) اور مہمان ِاعزازی معظم صدیقی (ساؤتھ ایشیا ڈویژن کے ریٹائرڈ چیف) تھے جبکہ صدارت کے فرائض اردو سروس کے ریڈیو براڈکاسٹر خالد حمید نے سر انجام دیئے۔

اجلاس کا باقاعدہ آغاز ذوالفقار کاظمی نے کیا، جبکہ بعد میں نظامت کے فرائض یاسمین نغمی نے سنبھال لیے۔

اجلاس میں نور نغمی نے اپنے منفرد انداز میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’آم‘ پڑھ کر سنایا جس سے حاضرین خوب محظوظ ہوئے۔

اجلاس کا ایک حصہ پاکستان کے تاریخی شہر سیالکوٹ کے لیے مختص کیا گیا تھا۔۔۔ آغا عبدالجلیل درانی نے سیالکوٹ شہر سے جڑی یادوں اور ان گلیوں کوچوں کا ذکر کیا جہاں ان کا بچپن کا دور بیتا تھا۔

صحافی علی عمران نے سیالکوٹ کے نامور شعراء کا ذکر کیا اور بتایا کہ سیالکوٹ کی زرخیز زمین نے ادبی دنیا کو علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور ذوالفقار غوث (انگریزی کے شاعر) جیسے نامور ادیب اور شعراء عطا کیے۔

ابو الحسن نغمی نے اپنے پیش لفظ میں سول کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سال ِنو میں ان کا ارادہ سول کے ادبی دائرے کو وسیع کرنے کا ہے اور اسی سلسلے میں سول کی باقاعدہ ممبر شپ کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔

ورجینیا میں مقیم پاکستانی امریکن ڈینٹسٹ ڈاکٹر فریدہ خٹک نے دانتوں کے علاج کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ عموماً لوگ دانتوں کی صحت و صفائی پر تب تک توجہ نہیں دیتے جب تک کہ وہ خراب نہ ہو جائیں، اور جب وہ ڈاکٹر کے پاس دانتوں کے معائنے کے لیے جاتے ہیں اس وقت تک اکثر خاصی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

مقامی شاعر عزیز قریشی نے اپنی دو نظمیں سنائیں جبکہ صادق باجوہ نے نئے سال کی مناسبت سے اپنی نظم ’نیا سال‘ سنا کر حاضرین سے داد وصول کی۔

پروگرام کا اگلا حصہ وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے نام تھا۔ وائس آف امریکہ کی ساؤتھ ایشین ڈویژن کے ریٹائرڈ چیف معظم صدیقی نے اردو سروس کی تاریخ اور مختلف ادوار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس کا آغاز پچاس کی دہائی میں ہوا تھا اور تب سے اب تک اردو سروس مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اپنی موجودہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ جناب معظم صدیقی نے بتایا کہ جب اردو سروس کا آغاز کیا گیا تھا تب روزانہ ایک گھنٹے کی ریڈیو نشریات کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

اردو سروس کے چیف فیض رحمان نے اردو سروس کے موجودہ پروگرامز اور اغراض و مقاصد پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ گذشتہ 10 برسوں میں اردو سروس نے ریڈیو کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن پروگرامز اور ویب سائیٹ کا بھی آغاز کیا جسے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ فیض رحمان کا کہنا تھا کہ وائس آف امریکہ ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور وائس آف امریکہ پر کبھی بھی خبر کو دو ذرائع سے تصدیق کیے بغیر شائع نہیں کیا جاتا۔

اجلاس کے اختتام پر اردو سروس کے ریڈیو براڈکاسٹر خالد حمید نے اپنے کیرئیر کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ گذشتہ تین چار دہائیوں میں میڈیا کے حوالے سے بہت سی تبدیلیاں آئیں مگر انہیں ابھی بھی ریڈیو پر خبریں پڑھ کر اور اپنے سامعین سے نشریاتی لہروں کے ذریعے رابطے میں رہنا زیادہ پسند ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG