رسائی کے لنکس

افریقی یونین کی صدر نے کہا ہے کہ افریقی یونین کی فرانس کی بہت ممنون ہے۔ ایک ایسی شخصیت کی طرف سے، جو سابق نو آبادیاتی طاقت، فرانس کی ایک عرصے سے مذمت کرتی رہی ہے، یہ بڑا حیران کن بیان ہے۔

برِ اعظم افریقہ کا اہم ملک جنوبی افریقہ ماضی میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتا رہا ہے۔ لیکن اس نے مالی سے شدت پسندوں کو نکالنے کے لیے وہاں فرانسیسی فوجوں کی کارروائی کی حمایت کی ہے ۔

گذشتہ ہفتہ کے روز مالی کے تاریخی شہر ٹمبکٹو میں فرانس کے صدر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس سے قبل، فرانسیسی فوجیوں نے اسلام پسند باغیوں کو اس شمالی شہر سے باہر نکالنے میں مالی کے فوجیوں کی مدد کی تھی ۔

فرانس کی اس پیش قدمی کے بارے میں جنوبی افریقہ کا رد عمل بظاہر محتاط لیکن مثبت رہا ہے۔ ایک ایسے ملک کی طرف سے جس نے ماضی میں افریقہ میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی اور جو افریقی یونین کے اس بنیادی اصول کی پابندی کرتا رہا ہے کہ افریقہ کے مسائل کا حل افریقی ہی ہونا چاہیئے، یہ تبدیلی عجیب سی لگتی ہے ۔

2011ء میں ، جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا تھا کہ ان کی حکومت لیبیا میں ہر قسم کی غیر ملکی فوجی مداخلت کو مسترد کرتی ہے، اس کی شکل چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ جنوبی افریقہ نے 2011 ء میں آئیوری کوسٹ کے پُر تشدد سیاسی بحران میں بھی فرانس کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔

لیکن مسٹر زوما کہتے ہیں کہ مالی میں اسلام پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کوئی اور متبادل راستہ نہیں تھا کیوں کہ مالی کی فوج کمزور اور غیر منظم تھی۔ مالی کی فوج نے مارچ میں بغاوت کر دی تھی کیوں کہ انہیں شکایت تھی کہ حکومت علیحدگی پسند طوارق باغیوں سے لڑنے کے لیے انہیں کافی مدد نہیں دیتی۔

افریقہ میں فرانس کی مداخلت کے بارے میں عام طور سے مثبت رد عمل ہوا ہے۔ افریقی یونین کی صدر نکوسازانا ڈلامینی۔زوما نے جو مسٹر زوما کی سابقہ بیوی ہیں، کہا ہے کہ افریقی یونین کی فرانس کی بہت ممنون ہے۔ ایک ایسی شخصیت کی طرف سے، جو سابق نو آبادیاتی طاقت، فرانس کی ایک عرصے سے مذمت کرتی رہی ہے، یہ بڑا حیران کن بیان ہے۔

جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کلے سن مونیلا نے کہا ہے کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ مالی میں کارروائی کی درخواست فرانس نے نہیں بلکہ افریقی فورسز نے کی تھی۔ ’’مالی کے جھگڑے سے نمٹنے کے لیے اگر فرانس جیسا ملک مدد دے، تو جنوبی افریقہ کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس مدد کا خیر مقدم کرتے ہیں کیوں کہ اس کے لیے صلاح و مشورہ کیا گیا ہے، اور اس مدد کے لیے افریقیوں نے درخواست کی تھی۔‘‘

مونیلا نے کہا کہ 2011ء میں آئیوری کوسٹ میں فرانس نے جو مداخلت کی تھی وہ زیادہ پیچیدہ اور سیاسی تھی جب کہ مالی میں جو خطرہ تھا وہ بالکل واضح تھا۔ آئیوری کوسٹ میں جنوبی افریقہ ثالثی کے حق میں تھا اور فوجی کارروائی کے خلاف تھا۔

’’آئیوری کوسٹ میں حالات بالکل مختلف تھے ۔ مالی میں آپ کا سابقہ ایسے باغیوں سے ہے جو ایک جائز حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ افریقی یونین میں ، ہم حکومت کی غیر آئینی یا طاقت کے زور پر تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے، خاص طور سے اگر آپ جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ رہے ہوں ۔‘‘

ایسا لگتا ہے کہ مالی کے لوگوں نے القاعدہ سے منسلک باغیوں کے خلاف کارروائی کی بڑی حد تک حمایت کی ہے۔ ان باغیوں نے کٹر اسلامی قانون مسلط کرنے کی مہم کے دوران لوگوں کو ہلاک کیا ہے، ان کے اعضا مسخ کیے ہیں اور شہریوں کو دھمکیاں دی ہیں۔ اس گروپ نے ٹمبکٹو کے قدیم تاریخی مرکز میں بہت سے بیش قیمت مخطوطات اور قیمتی اشیاء کو تباہ کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے تجزیہ کار ٹام وہیلر کہتے ہیں کہ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ مالی نے فرانسیسی فوجوں کو ملک میں لانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔’’فرانسیسیوں نے سینٹرل افریقن ریپبلک میں جانے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ فرانس کے صدر اولاندے کی پالیسی یہ تھی کہ افریقہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور نو آبادیاتی طرز فکر کو ترک کر دیا جائے گا۔ لیکن اس کیس میں، ایسا لگتا ہے کہ سب کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔ خاص طور سے مالی کی حکومت کی، جہاں کسی حد تک افرا تفری پھیلی ہوئی ہے، اور جس کی فوج اچھی طرح منظم نہیں ہے ۔‘‘

فرانس کی طرف سے مالی میں مداخلت کی بہت کم مخالفت ہوئی ہے ۔ مصر کے نئے صدر نے انتباہ کیا کہ فرانس کی مداخلت سے ، دوسرے علاقائی تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں ۔

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ان کی پریشانی یہ ہے کہ مالی کے اسلام پسند باغی، صحارا کے وسیع و عریض ریگستان میں غائب ہو جائیں گے، اور حملہ کرنے کے لیے موقعے کا انتظار کریں گے۔
XS
SM
MD
LG