رسائی کے لنکس

مسٹر مینڈیلا کئی راتوں سے پریٹوریا کے ایک فوجی اسپتال میں ہیں۔ ان کی بیماری کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا ہے ۔

جنوبی افریقہ کی حکمراں پارٹی اپنے نئے لیڈر کا انتخاب کرنے والی ہے جو بظاہر مستقبل کا صدر ہو گا لیکن اس سے صرف ایک ہفتے قبل نیلسن مینڈیلا اسپتال میں داخل ہو گئے ہیں۔ ملک کی سیاست میں بے چینی کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں اور بعض شہری کہتے ہیں کہ حکمران پارٹی پر سے ان کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ یہ وہی پارٹی ہے جس کا نام ملک کے سابق مقبول صدر کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

جنوبی افریقہ کی حکمران افریقن نیشنل کانگریس نے اس سال اپنے قیام کے سو سال مکمل کر لیے۔ اس موقع پر زبردست جشن منایا گیا جس میں پارٹی کے لیڈر اور غیر ملکی سربراہانِ مملکت نے شرکت کی۔

لیکن جشن کی ان تقریبات میں ایک خاص شخصیت موجود نہیں تھی۔ وہ تھے نیلسن مینڈیلا۔ مسٹر مینڈیلا کی عمر اب 94 سال ہے، اور 1994ء میں جب پہلی بار ایسے انتخابات ہوئے جس میں کئی نسلوں کے لوگوں نے حصہ لیا، تو وہ پارٹی کے پہلے ساؤتھ افریقن صدر بن گئے۔

مسٹر مینڈیلا کئی راتوں سے پریٹوریا کے ایک فوجی اسپتال میں ہیں۔ ان کی بیماری کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا ہے۔ سرکاری عہدے داروں نے ہفتے کے روز کہا کہ انہیں معمول کے ٹیسٹوں کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز جب صدر جیکب زوما ان کی عیادت کے لیے اسپتال گئے، تو انھوں نے بتایا کہ مسٹر مینڈیلا آرام سے ہیں۔

صدارتی ترجمان میک مہاراج نے کہا ہے کہ مسٹر مینڈیلا کی طبیعت ٹھیک ہے۔ انھوں نے ان بیانات کو دہرایا کہ مسٹر مینڈیلا کے اسپتال میں داخل ہونے پر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔’’سابق صدر نیلسن مینڈیلا نے رات آرام سے گزاری۔ ڈاکٹر مزید کچھ ٹیسٹ کریں گے۔ ان کی بہت اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ ہم شروع ہی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹیسٹ ان کی عمر کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں۔ وہ 94 برس کے ہیں ۔ ان کے ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں اور ان کی دیکھ بھال ضروری ہے ۔ اس عمر میں چھوٹی سی بات پر بھی پوری توجہ دینی پڑتی ہے۔‘‘

مہاراج نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ مسٹر مینڈیلا کتنے دن ہسپتال میں رہیں گے۔

نسلی امتیاز کے دور میں جب اس پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی، اس وقت مسٹرمینڈیلا اس کے ایک اہم لیڈر تھے۔ انھوں نے پارٹی سے تعلق کی بھاری قیمت ادا کی۔ سفید اقلیت کی حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں انھوں نے جو کردار ادا کیا، اس کے عوض انھیں 27 سال جیل میں کاٹنے پڑے۔

اپنی اسیری کے آخری برسوں میں، انھوں نے حکومت کے ساتھ پرائیویٹ طور پر تفصیلی مذاکرات کیے اور افریقن نیشنل کانگریس اور اس کے مقصد کو قانونی حیثیت دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ 1991 میں بالآخر انہیں فتح حاصل ہوئی اور 19 سال قبل، نسلی امتیاز کے خاتمے کی کامیاب جدو جہد کرنے پر، انہیں امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔ مسٹر مینڈیلا نے اپنے ملک کے نئے آئین پر 10 دسمبر، 1996 کو دستخط کیے ۔

لیکن 1997 سے مسٹر مینڈیلا افریقن نیشنل کانگریس کے سربراہ نہیں ہیں ۔ وہ 2004 میں عوامی زندگی سے ریٹائر ہو گئے، اور ان کی فلاحی فاؤنڈیشن کے کارکنوں نے انہیں عام لوگوں سے دور رکھا ہے۔ وہ اب کوئی انٹرویو نہیں دیتے، اور شاذ و نادر ہی کبھی عوام کے سامنے آتے ہیں ۔

اگرچہ وہ اب اس تحریک میں پیش پیش نہیں ہیں، لیکن تجزیہ کار پاؤل گراہم کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے ضمیر کی آواز ہیں۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 1994 سے 2000 تک، ہمارے ملک میں انتہائی سخت محنت کرنے والوں اور قابل ترین لوگوں پر مشتمل حکومت قائم تھی جس نے جنوبی افریقہ کی کایا پلٹنے کا عزم کر رکھا تھا اور اس عرصے میں، ان کے طرزِ عمل اور ان کی اعلیٰ شخصیت کی بدولت، سب لوگوں میں مل جل کر کام کرنے کا جو جذبہ پیدا ہوا تھا وہ اس کے بعد دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔‘‘

گراہم، جو جنوبی افریقہ میں انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ مسٹر مینڈیلا کو آج بھی ایک طاقتور شخصیت کے طور پر مانا جاتا ہے جوپارٹی میں قیادت کی موجودہ کشمکش کو مصالحت کے ذریعے طے کر سکتی تھی۔

امیلیا موسووا کہتی ہیں کہ مسٹر مینڈیلا کے دورِ حکومت سے ان کی بڑی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ لیکن یہ 42 سالہ شیف کہتی ہیں کہ ان کے بعد، حالات خراب ہو گئے ہیں اور ان کے دل میں موجودہ قیادت کی اتنی قدرو منزلت نہیں ہے۔

’’حالات بہت زیادہ خراب تو نہیں ہیں ، لیکن اسکینڈل بہت زیادہ ہیں جو ہمارے لیے نا قابلِ برداشت ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا آدمی ہو جو ایماندار ہو، اور جو ہماری ضرورتیں پوری کرے۔‘‘

موسووا نے یہ نہیں بتایا کہ افریقن نیشنل کانگریس کی ارکان میں سے جو لوگ پارٹی کی قیادت کے امیدوار ہیں، ان میں سے کون سے لوگ ان کی توقعات پر پورے اتریں گے۔ اب جب کہ مسٹر مینڈیلا سیاسی منظر سے اوجھل ہو رہے ہیں، افریقن نیشنل کانگریس اگلے ہفتے اپنے نئے لیڈر چنے گی۔
XS
SM
MD
LG