رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت میں جوہری اعتماد سازی کی ضرورت

  • آمنہ خان

پاکستان اور بھارت میں جوہری اعتماد سازی کی ضرورت

پاکستان اور بھارت میں جوہری اعتماد سازی کی ضرورت

پاکستان اور بھارت کے وزرا خارجہ کی حالیہ ملاقات میں جوہری ہتھیاروں کے سلسلے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی گفتگو کا موضوع رہے، جسے ماہرین ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔

اسی حوالے سے اس سال ریاست کیلی فورنیا میں ٕامریکہ ، کینیڈا اور ڈنمارک کے مختلف سرکاری اور تحقیقی اداروں نے اوٹاوا ڈائیلاگ کے نام سے پاکستان اور بھارت کے ماہرین، سابق عہدے داروں اور سابق فوجی افسروں کے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا۔

اس مذاکرے کے شرکاء میں شامل پاکستان کی نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیر مین ڈاکٹر جمشید ہاشمی کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی، تیل اور ایندھن کی کمی اور اس سے وابستہ مسائل کا ایک حل ہو سکتی ہےاور پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری توانائی کے پر امن استعمال سے متعلق معلومات کا تبادلہ بھی خطے کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔

پاک فضایئہ کے سابق وایس ایئر مارشل شہزاد چودھری بھی اوٹاوا ڈائیلاگ میں شریک تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ گو پاکستان اور بھارت نے اب تک ایک دوسرے کے خلاف جوہری ہتھیاروں استعمال نہیں کیے ہیں لیکن جوہری ہتھیاروں کے موضوع پر اعتماد سازی کے لیے مزید دو طرفہ بات چیت، سمجھوتوں اور اقدامات کی ضرورت ہو گی۔

مذاکرات میں شریک پاکستان اور بھارت کے ماہرین نے مل کر ایک فہرست تیار کی ہے جن میں ایک دورسرے کو میزائل ٹیسٹ کی پیشگی اطلاع دینا ، جوہری میزائل کے بلا اجازت استعمال اور حادثوں سے بچاؤ تک کے ٕمختلف اقدامات کو تفصیل سے درج کیا گیا ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کی بنیا دی وجوہات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کے ٹوبی ڈالٹن کا کہنا ہےکہ پاکستان اور بھارت کے لیے جوہری ہتھیار اور جوہری ٹیکنالوجی قومی وقار اور مرتبے کی نشانی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے کی وجہ سے بھی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں تیزی آئی ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ لیکن ٹوبی ڈالٹن کے مطابق جوہری صلاحیت میں تیزرفتاری سے اضافے کی وجہ سے جوہری حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ملاقاتوں کا موجودہ سلسلہ مستقبل میں مزید ملاقاتوں کی وجہ بنے گا ، جس سے خطہ جنوبی ایشیا کے جوہری اثاثے محفوظ بنانے کی کوئی راہ تلاش کی جا سکے گی ۔

XS
SM
MD
LG