رسائی کے لنکس

امریکہ: جنوبی ایشیائی باشندے بھی انتخابات میں متحرک


فائل

فائل

جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکی شہری حالیہ صدارتی انتخابات میں نہایت متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔

امریکہ میں جنوبی ایشیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد چالیس لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ ان میں سے 65 فی صد افراد ووٹ ڈالنے کے بھی اہل ہیں۔ جنوبی ایشیائی نژاد امریکن کمیونٹی میں حق رائے دہی کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کے اثرات آئندہ صدارتی انتخابات کے نتائج پر بھی پڑسکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک - بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، سری لنکا اور پاکستان - سے تعلق رکھنے والے امریکی شہری حالیہ صدارتی انتخابات میں نہایت متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔

ان میں سے ایک بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی رشیدہ پروین ہیں۔ رشیدہ نے سنہ 2000 میں پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا حالانکہ وہ اس وقت انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کررہی تھیں لیکن ان کے نزدیک ووٹ ڈالنا انتہائی اہم تھا۔

بقول رشیدہ پروین، "اگر اپ ووٹ نہیں دیں گے تو اپ کی آواز نہیں سنی جائے گی۔‘‘

رشیدہ سولہ برس گزرنے کے بعد اب نہ صرف خود ووٹ ڈالتی ہیں بلکہ ووٹ ڈالنے میں جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھن والے دیگر افراد کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔

ان کے بقول، "میں انھیں کہتی ہوں کہ پلیز آپ آئیے، آپ کی مدد کے لیے میں یہاں موجود ہوں۔‘‘

رشیدہ پروین ان دنوں شکاگو کے ایک پولنگ اسٹیشن پر جنوبی ایشیائی ممالک کے ان شہریوں کی مدد کرتی ہیں جنھیں انگریزی نہیں آتی۔ وہ روانی سے چار مختلف زبانیں بولتی ہیں جن میں بنگالی، ہندی، اردو اور انگریزی شامل ہیں۔

پروین ان دنوں شکاگو کے بورڈ آف الیکشن سے منسلک ہیں جو حق رائے دہی سے متعلق قانون کی شق نمبر 203 کے تحت کام کرتا ہے۔ ان کا کام لوگوں کی انگریزی زبان سمجھنے میں مدد کرنا ہے۔

شکاگو بورڈ آف الیکشن میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی ڈائریکٹر شبانہ جوہری ورمو کے مطابق شکاگو میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ان کے بقول، "ان لوگوں کو ہم زبان سمجھنے میں مددفراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر بھارتیوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس زبان کا انتخاب کریں۔ لہذا وہاں کے لوگوں کی رائے کی بنیاد پر ہمارے خیال میں ہندی بہترین انتخاب ہے۔"

جبکہ رشیدہ پروین کا کہنا ہے کہ زبان کا سمجھنا ہی ان کا واحد مسئلہ نہیں بلکہ ان میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو گاڑی نہیں چلاتے۔ اس لئے انھیں پولنگ اسٹیشن تک لانا اور گھر چھوڑنا بھی پڑتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوششیں موثر ثابت ہورہی ہیں۔

رشیدہ پروین کے بقول، "یہاں ہم نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے ملکوں میں کبھی ووٹ نہیں دیتے تھے لیکن وہ یہاں ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچتے ہیں۔

شکاگو جنوبی ایشائی ممالک کے باشندوں کی آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے ۔ جن کی تعداد میں ہر انتخابی عمل کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG