رسائی کے لنکس

منتظمیں کے مطابق، پاکستان میں ہونے والی ’ساوتھ ایشیا فیشن ایگزیبیشن‘ کے ذریعے ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ ہم تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں؛ اور یہ کہ، ’پاکستان دنیا بھر کے ممالک سے تجارتی تعلقات کیلئے ہر وقت تیار ہے‘

شہر کراچی میں 'جنوبی ایشیا کے ممالک کے فیشن‘ کی دو روزہ نمائش منعقد ہوئی، جس میں سارک ممالک کے ڈیزائنرز نے اپنے تخلیق کردہ ملبوسات پیش کئے، جنھیں شائقین نے بہت پسند کیا۔

اس فیشن شو مین پاکستانی اسٹائل کے ملبوسات، برائیڈل ڈریسز مشہور ٹرک آرٹ کے ڈیزائن کردہ ملبوسات سمیت بنگلہ دیش کی روایتی ساڑھیاں، بھارتی اسٹائل کے لباس اور مغربی طرز کے کلیکشنز کو پیش کیا گیا۔

"پاکستان اور بھارت کے کلچر بالکل ملتے جلتے ہیں،صرف نام بدل گئے ہیں ہمارا کھانا پینا، موسیقی روایات پہناوے سب ایک جیسے ہیں۔ میری دلی تمنا تھی کہ میں پاکستان آؤں اور یہاں کے لوگوں سے ملوں یہاں کی روایات و کلچر دیکھوں۔ آج جواپنی کلیکشن پیش کی ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ آسان پہناوے ہیں جسمیں جرسی کے کپڑے کا استعمال کیاگیا ہےجو'ایسی تو ویئر'ہوتا ہے۔ پاکستان کی فیشن انڈسٹری ترقی کررہی ہے اگر پاکستانی بھی میری طرح بھارت آکر اپنی کلیکشن پیش کریں مجھے امید ہے کابیاب ہوں گے"۔ بھارتی فیشن ڈیزائنر جتین کوچر

جنوبی ایشیا فیشن نمائش میں پاکستان آنے والے بھارتی فیشن ڈیزائنر، جتین کوچر نے ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ، ’پاکستان اور بھارت کے کلچر بالکل ملتے جلتے ہیں۔۔۔۔ ہمارا کھانا، پینا، موسیقی روایات پہناوے سب ایک جیسے ہیں‘۔

جتین نے کہا کہ ’میری دلی تمنا تھی کہ مین پاکستان آوٴں اور یہاں کے لوگوں سے ملوں۔۔۔۔ یہاں کی روایات و کلچر دیکھوں۔‘

جتین پچھلے 24 سالوں سے بھارت کے شہر نئی دہلی میں فیشن ڈیزائننگ کرتے آرہے ہیں۔

اپنے ملبوسات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے انہیں خصوصی طور پر پاکستان مین پیش کرنےکیلئے تیار کیا ہے۔

وہ زیادہ تر مغربی ملبوسات تیار کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ انکے پیش کردہ ملبوسات کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ آسان پہناوے ہیں، جسمیں جرسی کے کپڑے کا استعمال کیا گیا ہےجو 'ایزی ٹو ویئر‘ ہوتا ہے۔ جتین کے ملبوسات میں جرسی کپڑے کی ساڑیاں اور ملبوسات تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ، ’پاکستان کی فیشن انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔ اگر پاکستانی بھی میری طرح بھارت آکر اپنی کلیکشن پیش کریں، تو مجھے یقین ہے وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔‘

بنگلہ دیش اور پاکستان کی روایات جدا جدا ہیں، پاکستان میں عموماً شلوار قمیض کا رواج ہے، جبکہ بنگال کی خواتین ساڑھیاں پہنتی ہیں۔ میں نے ایسی ہی ساڑھی کلیکشن یہاں پیش کی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین فیشن کلچر کے تبادلے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہاہے۔ کراچی آنا بھی اچھا موقع ہے، ایسی سرگرمیاں ہوتی رہنی چاہئیں۔

پاکستانی ڈیزائنر تحریم سرفراز نے بتایا کہ ساوٴتھ ایشین فیشن ایگزیبیشن میں ہونے والے اس شو میں، میں نے پاکستان کے ٹرک آرٹ کے ملبوسات کو پیش کیا ہے۔۔۔۔ یہ پاکستان کا مشہور آرٹ ڈیزائن ہےجسے ملبوسات پر پیش کیاگیا ہے۔

حریم نے بتایا کہ، 'ساتھ ایشیا فیشن ایگزی بیشن کے ذریعے ہم دنیا کو بتاسکتے ہین کہ ہم تجارتی تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے ممالک سے تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

اس شو میں بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ڈیزائنر نے حصہ لیا۔

حریم نے مزید کہا کہ پاکستان میں شو کےبعد، ’ہم دیگر سارک ممالک میں پاکستان کا فیشن بھی پیش کریں گے۔‘

فیشن شو میں پاکستان سمیت دیگر سارک ممالک کے ڈیزائنرز کے تیار کردہ روایتی اسٹائل کے عام پہناووں سمیت مغربی طرز کے ملبوسات بھی پیش کئےگئے جنھین زیب تن کرکے پاکستان کی مشہور ماڈلز نے ریمپ پر واک کی۔

’سارک چیمبرآف کامرس انڈسٹری‘ کی جانب سے کراچی میں ہونے والی 'ساوتھ ایشین فیشن ایگزیبیشن' نامی اس فیشن شو کا مقصد جنوبی ایشیا کے ممالک کی فیشن انڈسٹری کو دنیا بھر میں متعارف کروا کر ان روایات کو دنیا بھر میں فروغ دینا ہے۔

XS
SM
MD
LG