رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا: بحری جہاز کے لاپتا مسافروں کی تلاش پھر شروع


جنوبی کوریا کے ساحلی محافظ امدادی سرگرمیوں میں مصروف (فائل فوٹو)

جنوبی کوریا کے ساحلی محافظ امدادی سرگرمیوں میں مصروف (فائل فوٹو)

حکام نے 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 179 کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے غوطہ خوروں نے سمندر میں ڈوبنے بحری جہاز کے 285 افراد کی تلاش کے لیے جمعہ کو کوششیں دوبارہ شروع کردیں۔

جنوبی کوریا کی ’’سیول‘‘ نامی کشتی بدھ کو ساحل سے دور ایک جزیرے کے قریب سمندر میں ڈوب گئی تھی۔

حکام نے 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 179 کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ کشتی کا ملبہ سمندر کے اندر 32 میٹر گہرائی میں پایا گیا ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانی کا درجہ حرارت اتنا کم ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر کسی کو بھی نمونیا ہو جائے۔

درجنوں ہیلی کاپٹر اور کشتیاں تلاش اور امدادی کارروائی میں مصروف ہیں اور امریکی بحریہ کی ایک کشتی علاقے میں موجود ہے جو کہ کسی بھی وقت امداد طلب کرنے پر کارروائی میں حصہ لے گی۔

جنوبی کوریا کے وزیر برائے سیکورٹی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کینگ بیانگ کیو نے کہا کہ کرینز ڈوبی ہوئی کشتی کو مکمل طور پر پانی سے باہر نکل لیں گی۔

’’555 غوطہ خوروں کو ان کارروائیوں میں شامل کیا گیا اور تین کرینز کو جائے وقوع کے لیے گزشتہ رات بھیج دیا گیا۔‘‘

6825 ٹن وزنی یہ کشتی منگل کی رات سیول سے مغرب میں اینچیان نامی بندرگار سے جیجو کے لیے روانہ ہوئی۔ اس کشتی پر 150 گاڑیاں اور ٹرک بھی لدے ہوئے تھے۔

حکام ابھی تک اس واقعے کے محرکات کا اندازہ نہیں لگا سکے لیکن چند بچنے والے مسافروں کا کہنا تھا کہ جہاز کے ڈوبنے سے پہلے انہوں نے ایک زور دار آواز سنی تھی۔

کئی مسافروں کا کہنا تھا کہ انہیں ابتدائی طور پر کہا گیا کہ وہ اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہیں۔

کشتی کی مالک کمپنی کے سربراہ کم یونگ بنگ نے جمعرات ہی کو اس حادثے پر معذرت کی۔

’’ہم مسافروں کے اہل خانہ سے معافی مانگتے ہیں اور میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ہم معذرت خواہ ہیں۔ ہماری کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ ہم انتہائی حد تک کوشش کریں گے کہ مزید جانیں ضائع نا ہوں۔‘‘

مسافروں میں سیول کے 325 طلبہ تھے جو کہ چار روز کے لیے پرفضا جزیرے پر جارہے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ منگل کو سمندر میں اس مقام پر بہت زیادہ دھند تھی لیکن اس بات کا علم نہیں کہ آیا کشتی کے ڈوبنے میں دھند کا بھی عمل دخل تھا۔
XS
SM
MD
LG