رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا: ڈوبنے والی کشتی کے کپتان کو عمر قید کی سزا


عدالت نے منگل کو یہ فیصلہ سنایا

عدالت نے منگل کو یہ فیصلہ سنایا

نومبر میں ایک ذیلی عدالت نے لی کو مسافروں کو بچانے میں غفلت اور فرائض سے کوتاہی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 36 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

جنوبی کوریا کی ایک اعلیٰ عدالت نے گزشتہ سال سمندر میں ڈوبنے والی ’سیوول‘ نامی کشتی کے کپتان کو ذیلی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

منگل کو جنوبی شہر گوانگجوکی ہائی کورٹ نے لی جون سیول کو 304 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا جو گزشتہ سال اپریل میں اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ان کی کشتی ملک کے جنوب مغربی ساحل کے قریب سمندر میں ڈوب گئی تھی۔

نومبر میں ایک ذیلی عدالت نے لی کو مسافروں کو بچانے میں غفلت اور فرائض سے کوتاہی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 36 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس حادثے کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد ہائی اسکول کے طالب علم تھے۔

جنوبی کوریا کی خبررساں ایجنسی ’یونہپ‘ کے مطابق عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ لی کے طرزعمل نے ’’ہمارے قومی وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی (اور) اسے کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘

عدالت نے عملے کے 12 ارکان کی سزاؤں کو کم کرتے ہو ئے انہیں 18 ماہ سے 12 سال قید کی سزا دی ہے۔ اس سے قبل ذیلی عدالت نے انہیں پانچ سے 30 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس حادثے میں بچنے والے کئی مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ وہ ڈوبتی ہوئی کشتی سے بھاگنے کی کوشش نہ کریں جبکہ کشتی کا عملہ خود ان افراد میں شامل تھا جنہیں سب سے پہلے بچایا گیا۔

کوریا کے کئی شہریوں کو کشتی کے عملے اور حکومت پر شدید غصہ ہے جبکہ حکومت نے یہ تسلیم کیا کہ یہ سانحہ بدعنوانی اور نامناسب حفاظتی انتظامات کی وجہ سے ہوا۔

XS
SM
MD
LG