رسائی کے لنکس

عملے کے چاروں ارکان پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگا دی جبکہ انہوں نے مسافرو ں سے کہا کہ وہ کشتی میں ہی رہیں۔

جنوبی کوریا میں استغاثہ نے گزشتہ ماہ ڈوبنے والی کشتی کے کپتان اور عملے کے تین دوسرے ارکان کے خلاف غیر اردای قتل کا الزام عائد کیا ہے۔

عہدیداروں نے جمعرات کو کہا کہ عملے کے چاروں ارکان پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگا دی جبکہ انہوں نے مسافرو ں سے کہا کہ وہ کشتی میں ہی رہیں۔

کشتی ڈوبنے کے حادثے میں 244 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور 58 اب بھی لاپتا ہیں جبکہ 175 افراد ا کو بچا لیا گیا تھا۔

16 اپریل کو جنوب مغربی جزیرے جیجو جاتے ہوئے یہ مسافر کشتی اچانک سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ اس پر سوار ایک اسکول کے 325 طلبا و طالبات بھی سوار تھے۔

اس حادثے پر جنوبی کوریا میں سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور جہاز کے عملے کو ہر طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے امدادی کاروائیاں شروع ہونے سے پہلے ہی کشتی کو چھوڑ دیا تھا۔

گزشتہ ہفتہ جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے ان کے ہاں جا کر ملاقات کی تھی اور انھوں نے اس حادثے کے ذمہ دار لوگوں کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG