رسائی کے لنکس

وزارت سائنس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی طرح کے ’کوڈ‘ اور تکنیک ماضی میں پیانگ یانگ کی طرف سے حملوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے کہا کہ تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ماہ سرکاری دفاتر اور میڈیا کی ویب سائٹس پر سائبر حملے شمالی کوریا نے کیے تھے۔

سیئول کی وزارت سائنس نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے سائبر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک انٹرنیٹ پروٹوکول یا ’آئی پی ایڈریس‘ کا پتہ لگایا ہے جو شمالی کوریا میں استعمال ہوا ہے۔

وزارت سائنس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی طرح کے ’کوڈ‘ اور تکنیک ماضی میں پیانگ یانگ کی طرف سے حملوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔

کوریائی جنگ کی 63 ویں برسی کے موقع پر گزشتہ ماہ یہ حملے کیے گئے، جس میں صدراتی ’بلیو ہاؤس‘ کے علاوہ حکمران جماعت اور میڈیا کی کچھ ویب سائٹس کو بلاک کر دیا تھا۔

اسی دن شمالی کوریا کی کئی ویب سائیٹس بھی سائبر حملوں کے بعد بند ہو گئیں۔

سیئول مارچ میں ہونے والے سائبر حملوں کا الزام بھی شمالی کوریا کی فوجی انٹیلی جنسی پر عائد کرتا ہے جس سے لگ بھگ اڑتالیس ہزار کمپیوٹر متاثر ہوئے اور اس سے بینکاری کی سہولتوں میں خلل پڑا۔

پیانگ یانگ ان الزمات کی نفی کرتا ہے اور وہ اپنی کچھ ویب سائٹس کی بندش کا الزام امریکہ اور جنوبی کوریا پر لگاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG