رسائی کے لنکس

گوانگژو کی ضلعی عدالت نے کپتان لی جن سیاک کو غفلت برتنے کا مرتکب قرار دیا لیکن انہیں قتل کا مجرم قرار نہیں دیا بصورت دیگر انہیں سزائے موت دی جاتی۔

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے اپریل میں ڈوبنے والی کشتی کے کپتان کو 36 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس حادثے میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گوانگژو کی ضلع عدالت نے کپتان لی جن سیاک کو غفلت برتنے کا مرتکب قرار دیا لیکن انہیں قتل کا مجرم قرار نہیں دیا بصورت دیگر انہیں سزائے موت دی جاتی۔

16 اپریل کو اس کشتی کو ڈوبتے ہوئے چھوڑنے والے عملے کے 14 ارکان کے بارے میں فیصلوں اور سزاؤں کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔

جنوبی کوریا میں 1997ء کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور موت کی سزا سے عمر قید کی سزا مراد لی جاتی ہے۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے کئی افراد نے یہ گواہی دی کہ جب جہاز نے ہچکولے کھانے شروع کیے تو ہمیں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ہدایت دی گئی کہ بجائے جہاز چھوڑنے کہ "ہم وہیں رہیں جہاں ہم موجود ہیں۔" جہاز آخر کار ڈوب گیا اور سینکڑوں مسافر اس میں پھنس گئے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 250 ہائی اسکول کے طلبا تھے جو سیر و تفریح کے لیے جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG