رسائی کے لنکس

سیئول: حملے میں زخمی امریکی سفیر کے چہرے پر 80 ٹانکے لگے


حملے کا نشانہ بننے والے امریکی سفیر مارک لپرٹ

حملے کا نشانہ بننے والے امریکی سفیر مارک لپرٹ

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر براک اوباما نے جنوبی کوریا میں سفیر مارک لپرٹ کو فون کر کے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

جنوبی کوریا میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تاحال جمعرات کو سیئول میں امریکی سفیر پر ہونے والے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔

جمعرات کی صبح ایک تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے امریکی سفیر مارک لپرٹ پر وہاں موجود ایک شخص نے چھوٹے چاقو سے حملہ کیا تھا جس سے سفیر کے چہرے اور کلائی پر زخم آئے۔

حکام کے بقول لپرٹ کی ڈھائی گھنٹے تک سرجری کی گئی اور ان کے چہرے پر 80 ٹانکے لگائے گئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی صحت سے متعلق تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور جنوبی کوریا کا ایک سرگرم سیاسی کارکن ہے جو کہ اس تقریب میں موجود تھا۔ اس شخص نے پانچ سال قبل جاپان کے سفیر پر بھی پتھر سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گرفتار کر کے دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

سیئول میں اس تقریب کا اہتمام مصالحت اور تعاون سے متعلق کونسل نے کیا تھا جو کہ ایک غیر سیاسی گروپ ہے اور شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین امن اور اتحاد کے لیے کام کرتا ہے۔

جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مشتبہ حملہ آور 55 سالہ کم کی جونگ ایک جانا پہچانا سیاسی کارکن اور انتہائی قوم پرست رجحانات رکھنے والا شخص ہے جو کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی کھلے عام مخالفت کرتا آیا ہے۔

سفیر پر حملے کے وقت کم نے چیختے ہوئے کہا کہ "شمالی اور جنوبی کوریا کو متحد ہونا چاہیے۔"

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا ہے کہ " ہم اس پرتشدد اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر براک اوباما نے لپرٹ کو فون کر کے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نو کوانگ ال نے اس حملے کو ناقابل قبول اور شمالی کوریا کے سب سے اہم اتحادی کے ایلچی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جنوبی کوریا میں سفارتکاروں اور سفارتی مشنز کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق اس واقعے سے مشترکہ فوجی مشقوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے ہزاروں اہلکار سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG