رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کی صدر کی فوجی کمانڈروں سے ملاقات


صدر پارک گئیون ہئی

صدر پارک گئیون ہئی

صدر پارک نے کہا کہ ’’اگر شمالی کوریا اپنی اشتعال انگیزی جاری رکھے گا تو ہماری فوج کو اپنی تربیت کے مطابق شروع میں ہی اس سے سختی سے پیش آنا چاہیئے اور اسے صاف صاف بتانا چاہیئے کہ اسے کتنی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

جنوبی کوریا کی صدر پارک گئیون ہئی نے شمالی کوریا کی طرف سے دو بیلسٹک میزائل تجربات کے ایک روز بعد جمعرات کو کہا ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تجربات کے بعد کہا تھا کہ ملک کو بحرالکاہل میں امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکی فوج کے حکام نے کہا ہے کہ بظاہر شمالی کوریا نے بدھ کو دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’موسوڈن‘ نامی میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔

ان میں سے پہلا تجربہ ناکام ہو گیا تھا۔

دوسرا میزائل جاپان کی طرف کافی اونچائی تک گیا اور 400 کلومیٹر دور جا کر سمندر میں گر گیا۔

صدر پارک نے جمعرات کو فوجی حکام سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں کہا کہ ’’شمالی کوریا نے دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ مختصر وقت میں یہ صورتحال تبدیل ہو گی۔‘‘

’’اگر شمالی کوریا اپنی اشتعال انگیزی جاری رکھے گا تو ہماری فوج کو اپنی تربیت کے مطابق شروع میں ہی اس سے سختی سے پیش آنا چاہیئے اور اسے صاف صاف بتانا چاہیئے کہ اسے کتنی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

اس سے قبل جمعرات کو ہی جنوبی کوریا کے وزیردفاع ہان من کی صدارت میں کمانڈرز کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور فوجی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ’’شمالی کوریا نے اپنی اشتعال انگیزیاں جاری رکھیں تو وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر تنہا اور تباہ کر لے گا۔‘‘

شمالی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کوریئن سنٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ میزائل تجربہ کامیاب رہا اور اس نے پڑوسی ملکوں کی سکیورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا۔

جاپان اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ میزائل ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی تک گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نے جاپان کے کسی حصے کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر میزائل کا زاویہ اونچا رکھا تھا۔

جنوبی کوریا اور امریکہ نے اس تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔

سلامتی کونسل نے جنوری میں شمالی کوریا کی طرف سے چوتھے جوہری تجربے اور فروری میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک راکٹ تجربے کے بعد مارچ میں اس پر تازہ پابندیاں عائد کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG