رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا: کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل


صدر پارک گیئون (فائل فوٹو)

صدر پارک گیئون (فائل فوٹو)

صدارتی "بلیو ہاؤس" کے حکام کا کہنا تھا کہ خزانہ، سکیورٹی، تعلیم ، سائنس، ثقافت، محنت اور صنفی مساوات کے محکموں کے وزراء تبدیل کیے گئے ہیں۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون ہئی نے کابینہ کے سات ارکان کو تبدیل کردیا ہے جس کا مقصد اپریل میں کشتی کے حادثے پر عوامی غصے اور عدم اعتماد کو کم کرنا ہے۔

اس حادثے میں 304 افراد ہلاک و لاپتا ہو گئے تھے جن میں اکثریت اسکول کے طلبا کی تھی۔

گزشتہ سال فروری میں ملک کی پہلی خاتون صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے پہلی مرتبہ کابینہ میں اتنے بڑے پیمانے پر رد و بدل کی ہے۔

صدارتی "بلیو ہاؤس" کے حکام کا کہنا تھا کہ خزانہ، سکیورٹی، تعلیم، سائنس، ثقافت، محنت اور صنفی مساوات کے محکموں کے وزراء تبدیل کیے گئے ہیں۔

صدر پارک پہلے ہی نیا وزیراعظم نامزد اور جب کہ وزیردفاع اور انٹیلی جنس چیف کو تبدیل کر چکی ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں جنوبی کوریا کے پولیس اہلکاروں نے کشتی حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک مقام پر چھاپا مارا تھا جس کا مقصد کشتی کی مالک کمپنی کے کرتا دھرتا کو گرفتار کرنا تھا۔

یو بیونگ اُن اس خاندان کے سربراہ ہیں یو چونگہایشنگ میرین کمپنی کا مالک ہے اور اپریل میں ڈوبنے والی کشتی بھی اسی کمپنی کی تھی۔ 72 سالہ یو کی گرفتاری کے لیے ایک ماہ سے ملک بھر میں چھاپے مارے جا رہے تھے اور یہ شخص حکام کو ٹیکس چوری، غفلت اور بدعنوانی کے الزامات میں مطلوب ہے۔

بدھ کو مارے جانے والے چھاپے میں بھی یو پولیس کے ہاتھ نہیں لگا لیکن اہلکاروں نے چرچ کے بعض ارکان کو یو کو فرار کروانے کے الزام میں حراست میں لیا۔

صدر پارک نے اپنی کابینہ کو بتایا تھا کہ یو کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

غوطہ خور اب بھی غرقاب کشتی کے لاپتا مسافروں کو تلاش کر رہے ہیں۔ اب تک 292 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 12 اب بھی لاپتا ہیں۔ مرنے والوں میں ہائی اسکول کے طلبا بھی شامل تھے جو کہ اس کشتی پر سیاحتی جزیرے جیجو جارہے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔
XS
SM
MD
LG