رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا اور امریکی فوج کے درمیان نیا بندوبست

  • کرٹ آچن

جنوبی کوریا اور امریکہ اس مہینے کوریا کی جنگ کےخاتمے اور اپنے فوجی تعاون کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج جنوبی کوریا ئی فوج ساٹھ سال پہلے ہونے والی اس جنگ کے وقت سے بہت مختلف ہے جب اسے شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی مدد لینی پڑی تھی ۔لیکن اب جنوبی کوریا اور امریکہ اپنے دفاعی بندوبست میں ایسی تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں جس کے تحت کوریائی خطے میں کسی نئی جنگ کی صورت میں امریکی فوجی جنوبی کوریا کی قیادت میں لڑنے کو تیار ہونگے ۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی قیادت کا اتفاق ہے کہ اب جنگ ہوئی تو دونوں ملکوں کی فوج ایک ساتھ مل کر لڑے گی ۔ ان دونوں ملکوں کے فوجی اتحاد نے کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کو جنوبی کوریا کے خلاف کسی نئی جارحیت سے روکا ہوا ہے جس کی مثال شمالی کوریا نے 25 جون 1950ء کو قائم کی تھی ۔امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان کئی سالوں سے اس بات پر اتفاق تھا کہ اگر کوریائی خطے میں کوئی نئی جنگ چھڑی تو جنوبی کوریا ئی فوج کی قیادت امریکی فوج کرے گی ۔ لیکن اپریل 2012ءمیں یہ صورتحال تبدیل ہو جائے گی جب جنوبی کوریا خود اپنی فوج کا آپریشنل کنٹرول دوبارہ سنبھالے گا ، اس بندوبست کو اوپکان ٹرانسفرکا نام دیا گیا ہے ۔کوریا میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل والٹر شارپ کہتے ہیں کہ جنوبی کوریا کی فوج اب قائدانہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں شمالی کوریا کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ جمہوریہ کوریا کی فوج اتنی مضبوط اور پیشہ ور ہو چکی ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کی فوج کے قائدانہ کردار کو تسلیم کرنے کو تیار ہے ۔

امریکی رہنماوں کا کہنا ہے کہ اوپکان ٹرانسفرکے بعد کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوگا اور28 ہزار امریکی فوجی جنوبی کوریا میں اسی طرح موجود رہیں گے ۔ لیکن بعض دفاعی ماہرین اس منصوبے کو قبل از وقت قرار دے رہے ہیں ، خصوصا شمالی کوریا میں عدم استحکام کے آثار نظر آنے کے بعد ۔شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ال کی صحت 2008ء میں فالج کے حملے کے بعد سے مکمل طور پر ٹھیک نہیں اور خیال ہے کہ وہ اپنا جانشین تیار کر رہے ہیں ۔ گزشتہ سال شمالی کوریا کی کرنسی میں اصلاحات کی ناکام کوشش کے بعد شمالی کوریا کی معیشت تباہی کے دہانے پر قرار دی جا رہی ہے ۔جبکہ گزشتہ ماہ جنوبی کوریا ئی بحری جہاز ڈوبنے کے واقعہ میں بھی تفتیش کار شمالی کوریا کوذمہ دار ٹہرا رہے ہیں ۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ڈین پنک سٹن کہتے ہیں کہ اتنی غیر یقینی صورتحال میں جب قیادت کی تبدیلی اور عدم استحکام سامنے ہو تو اسلحہ پر کنٹرول اور اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کئے جا سکتے ۔ ہمیں شمالی کوریا کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ۔ وہ چھ ملکی مذاکرات پر واپس آنے سے بھی منکر ہے ۔ہم نے ابھی جنوبی کوریا کے بحری جہاز کے ڈوبنے اور دونوں کوریاوں کی سمندری جھڑپیں بھی دیکھی ہیں ۔ اس لئے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی ایسے اقدامات کا وقت نہیں آیا ۔

کم وانگ شیک ایک کوریائی ادارے میں دفاعی تجزیہ کار ہیں ۔ کہتے ہیں کہ رائے عامہ کے حالیہ جائزے جنوبی کوریائی شہریوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ جوں جوں امریکہ اورجنوبی کوریا کے درمیان اس فوجی بندوبست میں تبدیلی کے دن قریب آرہے ہیں ، اپنے ملک کے تحفظ کے لئے جنوبی کوریا ئی عوام کی اکثریت کی فکر بڑھ رہی ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا 2010ء تک ایسا کرنابہت ضروری ہے ۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ موضوع اس سال کے آخر میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے صدور کے درمیان ملاقات میں بھی زیر بحث آسکتا ہے جب سیؤل میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بیک صدر اوباما کی میزبانی کریں گے ۔

XS
SM
MD
LG