رسائی کے لنکس

سوڈان کےساتھ جاری سرحدی جھڑپوں کے مکمل جنگ میں تبدیل ہوجانے کے خدشے کے پیشِ نظر جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر اپنا دورہ چین مختصر کرکے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

صدر سلواکیر کا دورہ چین ہفتے تک جاری رہنا تھا جس کے دوران میں انہیں چینی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ چین کے معاشی مرکز شنگھائی بھی جانا تھا۔

لیکن چین کی 'نیشنل پیپلز کانگریس' کے چیئرمین وو بنگو نے کہا ہے کہ صدر سلوا کیر کو "داخلی حالات" کے باعث شنگھائی کا دورہ منسوخ کرنا پڑا ہے جس پر انہیں افسوس ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ صدر سلواکیر وطن واپس کب روانہ ہوں گے۔

اس سے قبل منگل کو جنوبی سوڈان کے صدر نے اپنی چینی ہم منصب ہو جن تاؤ کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ سوڈان نے ان کے ملک کے خلاف "اعلانِ جنگ" کردیا ہے۔

چین نے فریقین پہ زور دیا ہے کہ وہ اپنے تنازعات پرامن طریقے سے حل کریں۔ چینی حکومت نے دونوں ممالک کےدرمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا ایک نمائندہ خطے میں بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان سرحدوں کے تعین اور تیل سے متعلق تنازعات کے باعث گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلح جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں ممالک حالتِ جنگ میں ہیں۔

چین ان دونوں ممالک سے نکلنے والے تیل کا بڑا خریدار ہے جس کے باعث اسے دونوں حکومتوں پر اثر و رسوخ حاصل ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان اور جنوبی سوڈان سے سرحدی جھڑپیں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزن رائس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ منگل کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں عالمی ادارے کے حکام نے بتایا کہ سوڈان کے سرحدی قصبے ہیگلگ سے جنوبی سوڈان کی افواج کے انخلا پر سوڈان کا ابتدائی ردِ عمل حوصلہ افزا تھا لیکن بعد ازاں سوڈانی افواج کے جوابی حملوں میں شدت آگئی۔

امریکی سفیر کے مطابق جنوبی سوڈان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مشن نے تصدیق کی ہے کہ سوڈان کی جانب سے پڑوسی ملک کے سرحدی علاقے میں کی جانے والی بمباری سے 16 عام شہری ہلاک اور 34 زخمی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG