رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان میں 89 لڑکے اغوا کر لیے گئے: یونیسف


دسمبر 2013ء سے جنوبی سوڈان میں شروع ہونے والے پرتشدد تنازع کے بعد سے حکومت اور باغی گروپوں نے ہزاروں بچوں کو لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں مسلح افراد نے کم ازکم 89 لڑکوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

ان بچوں کو وا+ شیلک نامی علاقے سے اس وقت اغوا کیا گیا جب یہ امتحانی پرچے دے رہے تھے اور ان میں 13 سالہ کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

یونیسف نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مبینہ طور پر "مسلح سپاہی" گھر گھر جا کر بھی 12 سال سے زائد عمر کے لڑکوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

گزشتہ مہینے ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ دسمبر 2013ء سے جنوبی سوڈان میں شروع ہونے والے پرتشدد تنازع کے بعد سے حکومت اور باغی گروپوں نے ہزاروں بچوں کو لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو چکا کہ اغوا کے اس تازہ واقعے میں کون ملوث ہے لیکن جنوبی سوڈان میں یونیسف کے نمائندے جوناتھن ویچ نے ان بچوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

"بچوں کو مسلح فورسز کی طرف سے لڑائی کے لیے بھرتی کیے جانے سے خاندان اور سماج تباہ ہو جاتا ہے۔ بچوں کو ناقابل بیان حد تک تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ اپنا خاندان کھو دیتے ہیں اور اسکول جانے کا اپنا حق بھی۔"

جنوبی سوڈان کئی دہائیوں کی لڑائی کے بعد 2011ء میں سوڈان سے علیحدہ ہوا تھا۔ اس نئے ملک میں دسمبر 2013ء میں اس وقت تنازع شروع ہوا جب صدر سلواکیر نے اپنے سابق نائب ریک ماچار پر اپنا تختہ الٹنے کے لیے بغاوت کا الزام عائد کیا۔

اس تنازع میں بڑی تعداد میں قتل و غارت گری اور لوگوں پر تشدد بشمول انھیں زبردستی بھوکا رکھنے جیسے واقعات رونما ہوئے۔ تقریباً 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG