رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان: حکومت جنگ بندی پر رضامند


سربراہ اجلاس

سربراہ اجلاس

جمعے ہی کے روز ہونے والے سربراہ اجلاس کے دوران، کینیا کے صدر اُہورو کنیاٹا نے فریقین کی طرف سے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر کنیاٹا نے کہا کہ ’تشدد کے یہ واقعات علاقائی استحکام کے لیے خطرے کا باعث بنیں گے‘

ایک افریقی علاقائی بلاک نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان کی حکومت نے جنگ بندی سے اتفاق کر لیا ہے، جس اقدام کے ممکنہ اثرات یہ نکلیں گے کہ نسلی لڑائی کے خاتمے میں مدد ملے گی، جِس کے باعث ایک ماہ کے اندر 1000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترقیات سے متعلق ایک بین الحکومتی ادارے نے اِس بات کا اعلان جمعے کے دِن نیروبی میں ہونے والے ایک سربراہ اجلاس کے خاتمے پر کیا۔ گروپ نے صدر سالوا کیر کے سابق معاون، رِک ماچار کے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اِسی قسم کے عزم کا اظہار کریں۔

اِسی ماہ کے اوائل میں جنوبی سوڈان میں لڑائی کا اُس وقت آغاز ہوا جب صدر کیر نے ماچار پر تختہ الٹنے کا الزام لگایا۔

ماچار کا کہنا ہے کہ تشدد کے یہ واقعات مسٹر کیر کے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

تشدد کے واقعات نے فوری طور پر ایک نسلی شکل اختیار کر لی، ایسے میں جب صدر کیر کے دِنکا نسلی گروپ کی نوئر گروپ سے لڑائی ہوئی، جِس کا تعلق ماچار کےگروہ سے ہے۔

جمعے کے روز ہونے والے اِس سربراہ اجلاس کے دوران، کینیا کے صدر اُہورو کنیاٹا نے فریقین کی طرف سے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا۔

مسٹرکنیاٹا نے کہا کہ تشدد کے یہ واقعات علاقائی استحکام کے لیے خطرے کا باعث بنیں گے۔

اِس سے قبل، صدر کیر اور ماچار دونوں ہی کا کہنا تھا کہ وہ مکالمے کے لیے تیار ہیں، تاہم حکومت نے ماچار کا یہ مطالبہ مسترد کردیا کہ بات چیت سے قبل، زیر ِحراست مخالف راہنماؤں کو رہا کردیا جائے۔

جمعے کے روز رائٹرز خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومتی افواج نے ’ملاکال‘ میں ماچار کے وفادار جنگجوؤں کو شکست دے دی ہے، جو ریاستِ نیل سے اوپر کے تیل پیدا کرنے والے علاقے کا دارلحکومت ہے۔
XS
SM
MD
LG