رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان: مسلح افراد کے حملے میں 20 ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے تشدد کے اس واقعے کو " غیر مسلح شہریوں پر شرمناک اور غیر انسانی حملہ" قرار دیا۔

جنوبی سوڈان میں حکام نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے تقریباً پانچ ہزار افراد اور امن مشن کے اہلکاروں کی رہائش کے قائم اقوام متحدہ کی تنصیب پر حملہ کرکے کم ازکم 20 لوگوں کو ہلاک اور 60 سے زائد کو زخمی کردیا۔

حکام کے بقول جونگلئی ریاست کے مرکزی شہر بور میں مسلح نوجوانوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن پر دھاوا بولا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے تشدد کے اس واقعے کو " غیر مسلح شہریوں پر شرمناک اور غیر انسانی حملہ" قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس "وحشیانہ حملے" کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان اسٹیفن یوجارک نے عالمی ادارے کی حفاظت میں موجود شہریوں پر اس حملے کو " سنگین اشتعال انگیزی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن مشن کے اہلکاروں پر ہونے والا کوئی بھی حملہ "ناقابل قبول اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔"

جنوبی سوڈان میں اپوزیشن فورسز کے ایک ترجمان جیمز گاٹیٹ ڈاک نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "معصوم شہریوں پر وحشیانہ حملہ اور قتل عام" کے مترادف قرار دیا۔

ملک میں گزشتہ سال صدر سلواکیر اور سابق نائب صدر ریئک ماچار کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات سے بعد سے بدامنی کے باعث ہزاروں لوگ اقوام متحدہ کی تنصیبات میں عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی سوڈان میں ہونے والے پر تشدد واقعات کے باعث آٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ عالمی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ بارشوں کے موسم میں ان افراد کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔
XS
SM
MD
LG