رسائی کے لنکس

صحافیوں کی تنظیم کے سربراہ اولیور موڈی کا کہنا ہے کہ پیٹر کی موت اس ملک میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بقول آج پیٹر نشانہ بنا ہے تو کل کوئی اور ہوگا۔

جنوبی سوڈان میں ایک صحافی کے قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے جب کہ چند روز قبل ہی صدر سلوا کیر کی طرف سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ "ملک کے خلاف کام کرنے" والے نامہ نگاروں کو جان سے مار دیا جائے گا۔

27 سالہ موئی پیٹر جولیس کی لاش بدھ کو دیر گئے جوبا کے ایک رہائشی علاقے سے برآمد ہوئی۔ وہ سیاسی معاملات کے نامہ نگار تھے۔

پولیس کے مطابق انھیں متعدد گولیاں ماری گئیں جب کہ ان کی ذاتی استعمال کی اشیا یعنی موبائل فون، شناختی کارڈ اور رقم بھی وہیں رکھی ہوئی تھی جس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قتل کے محرکات میں ڈکیتی کا امکان نہیں۔

پیٹر کے والد جولیس کیلونگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام پر رات کی شفٹ پر تھے کہ انھیں بیٹے کے قتل کی اطلاع ملی۔ ان کے بقول پیٹر کو پیچھے سے گولیاں ماری گئیں۔

قتل کے اس واقعے سے تین روز قبل ہی صدر کیر نے صحافیوں کو متنبہ کیا تھا کہ "آزادی صحافت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ملک کے خلاف کام کریں۔ اگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ (ایسے لوگوں کو) نہیں مارا جائے گا تو ہم اس کا عملی مظاہرہ کریں گے۔"

انھوں نے یہ بیان اتوار کو ادیس ابابا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں شرکت سے قبل دیا تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد جنوبی سوڈان میں 20 ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنا تھا۔

بات چیت میں شامل فریقین میں صدر کیر واحد فریق تھے جنہوں نے امن معاہدے پر دستخط سے انکار کیا تھا۔

امریکہ نے مسٹر کیر پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے خلاف اپنی دھمکی واپس لیں۔

جمعرات کو محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربے کا کہنا تھا کہ "ہمیں رواں ہفتے کے اوائل میں صدر کیر کی طرف سے صحافیوں کے متعلق بیان پر شدید تشویش ہے اور ان سے یہ بیان رد کرنے کا کہتے ہیں۔"

جنوبی سوڈان میں صحافیوں کی تنظیم کے سربراہ اولیور موڈی کا کہنا ہے کہ پیٹر کی موت اس ملک میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بقول آج پیٹر نشانہ بنا ہے تو کل کوئی اور ہوگا۔

پیٹر رواں سال جنوبی سوڈان میں ہلاک ہونے والے ساتویں صحافی ہیں۔ جنوبی میں مغربی بحرالغزال کے علاقے میں سڑک پر ہونے والے ایک حملے میں پانچ صحافی مارے گئے تھے جب کہ مئی میں ریاست جونگلئی میں ایک اور صحافی کو قتل کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG